غیر مقیم ہندوستانیوں کے فکر میں اضافہ، جرائم کی روک تھام کیلئے عرب ممالک کے قانون نافذ کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) شمس آباد کے حدود میں وٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ نے عرب ممالک میں قیام پذیر ہندوستانیوں کو بھی سخت پریشان کردیا ہے اور وہاں مقیم ہندوستانی جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، آپس میں اسی واقعہ کو لے کر فکرمندی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنے بیوی بچوں کو ملک میں چھوڑ کر تلاش معاش کے سلسلہ میں ملک سے دور زندگی بسر کر رہے ہیں اور اب اس واقعہ نے غیر مقیم ہندوستانیوں کو فکرمندی میں مبتلا کردیا ہے اور ان کا احساس ہے کہ ملک میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کیلئے جس طرح عرب ممالک میں سخت ترین سزا ئیں دی جاتی ہیں اور وہاں کے قوانین سخت ہونے کی وجہ سے ہی ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے ہیں ، لہذا ہندوستان میں بھی ایسے ہی قوانین لاگو کرنے کی اشد ضرورت ہے اور بعض کا احساس ہے کہ ملک میں خواتین کی عزت اور ان کے احترام کو پروان چڑھانے کے اقدامات کئے جانے چاہیں ، دبئی میں مقیم آر سریتا ریڈی نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ان کی رات کی نیند حرام ہوگئی ہے اور محترمہ کا آبائی مقام ضلع ورنگل ہے اور انہوں نے مزید بتایا کہ میں جب کبھی بھی اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آبائی مقام جانے کیلئے ہندوستان کا سفر کرتی ہوں تو سخت پریشان رہتی ہوں اور انہوں نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ ورنگل میں شیرخوار بچی کی عصمت ریزی اور قتل کے ملزم کو فاسٹ ٹریک کورٹ کی جانب سے موت کی سزا سنائے جانے پر ہائی کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں تبدیل کردیا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ حواتین کے تحفظ کیلئے سخت ترین قوانین کی اشد ضرورت ہے اور ساتھ ہی سوشیل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کی بے راہ روی کو روکتے ہوئے شراب پر پا بندی عائد کی جانی چاہئے ۔ اسی طرح عرب ملک قطر میں قیام پذیر مدھیلا ریڈی نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے معاملہ میں جہاں حکومت اور پولیس کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، وہیں خواتین کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ واضح ہو کہ موصوفہ کا تعلق ضلع محبوب نگر سے ہے اور انہوں نے اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ ایرپورٹ سے بذریعہ ٹیکسی روانہ ہوئی تھی اور دوران سفر ٹیکسی راستہ بدلنے پر پریشان ہوگئی تھی ۔ دراصل سڑک کے مرمتی کام جاری رہنے کی وجہ سے ٹیکسی متبادل راستہ پر ڈرائیور چلا رہا تھا اور میں نے پر یشان ہوکر فوری پولیس کو اطلاع دی تو انہوں نے مجھے وجوہات سے آگاہ کیا تھا ۔ ایک اور رادھا دیپیکا نامی خاتون جن کا آبائی مقام ضلع مغربی گوداوری اے پی سے ہے جو سعودی عرب میں رہتی ہیں ، انہوں نے بتایا کہ جب کبھی بھی میں شمس آباد ایرپورٹ پر اترتی ہوں تو مجھے دوسرے ہی لمحہ میں عدم تحفظ کا احساس پریشان کردیتا ہے جبکہ عرب ممالک میں ایسا احساس بالکل ہی نہیں رہتا اور انہوں نے مطالبہ کیا ، ایسے قتل ، عصمت ریزی جیسے جرائم کے مرتکبین کو سرعام سخت سزائیں دی جانی چاہئے ، جدہ میں مقیم حیدرآباد امرینا قیصر نے بتایا کہ خواتین کی عزت اور ان کا احترام کے عملی اقدامات کا آغاز گھروں سے ہونا چاہئے ۔