رپورٹ پیش نہ کرنے پر 10 ہزار روپئے جرمانہ ، 25 اگست کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔4 ۔اگست (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے حدود میں غیر قانونی تعمیرات کے مسئلہ پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی عہدیداروں سے سوال کیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے حق میں جو حکم التواء حاصل کیا گیا ، ان کی برخواستگی کیلئے کارپوریشن عدالت سے کیوں رجوع نہیں ہوتا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بلدی عہدیدار غیر مجاز تعمیرات کی تکمیل تک خاموش تماشائی کا رول ادا کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں تقریباً ایک لاکھ غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ عدالت نے ریاستی سطح پر غیر مجاز تعمیرات اور ان کے خلاف کارروائی کی تفصیلات طلب کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بنیادی سطح پر بلدی عہدیدار غیر مجاز تعمیرات کو روکنے میں غیر سنجیدہ ہیں۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی کے زونل کمشنرس پر برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے کہا کہ جن عہدیداروں نے ابھی تک رپورٹ پیش نہیں کی ہے ، ان پر 10 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے۔ غیر مجاز تعمیرات اور ان کے خلاف کارروائی کی تفصیلات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی کو دو ہفتوں کی آخری مہلت دی گئی ہے۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 25 اگست کو ہوگی۔