حیدرآباد میں فرقہ وارانہ فسادات سے کس کو فائدہ ؟

   

حیدرآباد۔25۔اگسٹ(سیاست نیوز) حیدرآباد میں فساد بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار کی فراہمی کے لئے راہ ہموار کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور بی جے پی بالواسطہ طور پر شہر حیدرآباد کا لاء اینڈ آرڈراپنے کنٹرول میں لینے کا اختیار رکھتی ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے وقت منظور کئے گئے قانون آندھراپردیش تنظیم جدید ایکٹ کے تحت ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے باوجود 10سال کے لئے شہر حیدرآباد کو دونوں ریاستوں کے دارالحکومت کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ اگر تلنگانہ میں نظم و ضبط بگڑتا ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد کا لاء اینڈ آرڈر گورنر کے حوالہ کیا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد میں فساد اور نقص امن کی صورت میں جو حالات پیدا ہوں گے اس کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو حاصل ہوگا اور حیدرآباد کی امن و ضبط کی صورتحال بگڑنے کی صورت میں مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر گورنر تلنگانہ ’’ آندھراپردیش تنظیم جدید ایکٹ‘‘ کے تحت گورنر تلنگانہ ریاست کے لاء اینڈ آرڈر امور اپنے اختیار میں لے سکتی ہے اور اس صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد بالواسطہ طور پر مرکزی زیر انتظام علاقہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ انتخابات میں سرکاری مشنری کے ریاستی حکومتوں کی جانب سے استعمال کی کئی مثالیں موجود ہیں اور مسلسل یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ریاست میں جو بھی جماعت برسراقتدار ہوتی ہے وہ لاء اینڈ آرڈر اور پولیس کا انتخابات کے دوران بھر پور استعمال کئے جانے کے الزام کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اگر شہر میں فساد ہوتا ہے اور لاء اینڈ آرڈر گورنر کے حوالہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں گورنر وزارت داخلہ کے تحت امیت شاہ کی نگرانی میں کام کریں گے۔ تلنگانہ میں اگر لاء اینڈ آرڈر گورنر کے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کا راست نقصان مسلمانوں کو ہوگا اور سیاسی جماعتیں بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا بھر پور فائدہ حاصل کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کی جانب سے ’آندھراپردیش تنظیم جدید ایکٹ ‘ جس کے ذریعہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے اس کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد حالات کو کشیدہ کرتے ہوئے پر امن ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس اگر ریاست میں فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کو منقسم کیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حلیف سیاسی جماعت کو بھی حاصل ہوگا اور ان کی نشستوں میں بھی اضافہ کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی مختلف ریاستوں بالخصوص جنوبی ہند میں اپنے استحکام کے لئے وسیع منصوبہ تیار کئے ہوئے ہے اور اسی منصوبہ کے حصہ کے طور پر ریاست تلنگانہ میں امن و ضبط کو بگاڑتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حیدرآباد کو فساد سے پاک اور امن کو امان کا گہوارہ بنائے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھاچارگی کے ماحول کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ مرکزی حکومت کو آندھراپردیش تنظیم جدید ایکٹ میں موجود اس گنجائش سے استفادہ کا موقع حاصل نہ ہوسکے۔م