آدھاراور کسٹمر اکاؤنٹ نمبر مربوط کرنے سے مشکلات، کرایہ داروں کی اسکیم میں شمولیت ممکن نہیں
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میں مفت پانی کی سربراہی اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں مختلف اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار نمبر اور کسٹمر اکاؤنٹ نمبر کو مربوط کیا ہے تاکہ حقیقی استفادہ کنندگان کی نشاندہی کی جاسکے۔ اس فیصلہ کا مقصد شہر میں ایک ہی نام سے کئی جائیدادیں رکھنے والے افراد کا پتہ چلاکر انہیں اسکیم سے دور رکھنا ہے۔ ایک شخص کو صرف ایک مکان کی حد تک مفت پانی کی سربراہی اسکیم سے استفادہ کا موقع رہے گا۔ بورڈ کے اس فیصلہ نے کرایہ کے مکانات میں رہنے والے خاندانوں کو اسکیم سے عملاً خارج کردیا ہے کیونکہ کرایہ دار آدھار نمبر تو دے سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ آدھار پر اس کا پتہ اسی مکان کا ہو۔ دوسری چیز یہ کہ کسٹمر اکاؤنٹ نمبر کے تحت مالک مکان کا نام نل کنکشن میں ہوتا ہے لہذا کرایہ داروں کو اسکیم سے استفادہ میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مختلف اپارٹمنٹس میں رہنے والے افراد انفرادی طور پر رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرسکتے ہیں۔ فلیٹ کے مالکین کو اپنے خرچ پر واٹر میٹرس نصب کرنے ہوں گے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مفت پانی کی سربراہی اسکیم سے مکانات کے مالکین کو فائدہ پہنچے گا۔ اگرکسی شخص کے ایک سے زائد مکانات ہوں تو ایسی صورت میں وہ صرف اس مکان میں اس اسکیم سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے جہاں وہ مقیم ہو۔ آدھار کو کسٹمر اکاؤنٹ نمبر سے مربوط کرنے کی صورت میں سافٹ ویر تمام ارکان خاندان کے ناموں کی جانچ کرتے ہوئے انہیں اسکیم سے نااہل قرار دے گا۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر بورڈ نے اندازہ کیا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں تقریباً 24 لاکھ خاندان بستے ہیں ان میں سے 6 لاکھ صارفین کو اسکیم سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ اگر بوگس استفادہ کنندگان کی جانچ کرتے ہوئے ان کے نام علحدہ کردیئے جائیں تو بہت کم تعداد کو فائدہ پہنچے گا۔ اسکیم سے باہر رہنے والے خاندانوں کو معمول کے مطابق آبرسانی بل ادا کرنا ہوگا۔ آدھار کارڈ اور واٹر بل کی تفصیلات میں یکسانیت ہونی چاہیئے۔ سوسائٹیوں اور ریسیڈنشیل ویلفیر اسوسی ایشن کی نگرانی میں موجود عمارتوں کے معاملہ میں ہر صارف کو سوسائٹی یا اسوسی ایشن کی جانب سے رہائشی سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ آدھار کی جانچ اور میٹر کی تنصیب میں تاخیر کے پیش نظر اسکیم کے تحت بلز کی اجرائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کے مطابق 1.96 لاکھ صارفین جو شہر کے سلم علاقوں میں بستے ہیں ان کے پاس واٹر میٹر نہیں ہے۔ ایسے خاندانوں کو اسکیم میں شامل کرنے سے بورڈ پر ماہانہ 4.78 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ 7.87 انفرادی گھریلو صارفین کو 2.2 لاکھ واٹر میٹرس نصب کرنا ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں 24967 گھریلو اپارٹمنٹس ہیں اور انہیں 17192 میٹرس نصب کرنے ہوں گے۔ 10.08 لاکھ صارفین کو 2.37 لاکھ میٹرس نصب کرنے ہوں گے جس سے ماہانہ 19.92 کروڑ کے آبرسانی بل کی بچت ہوگی۔ ماہانہ 20 ہزار لیٹر پانی مفت فراہم کیا جائے گا۔ واٹر میٹرس کی تنصیب کی شرط کے نتیجہ میں صارفین اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں مختلف اندیشوں کا شکار ہیں۔ حکومت نے اسکیم سے استفادہ کیلئے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں وہ صارفین کی دشواریوں میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں۔