حیدرآباد میں مفت پینے کے پانی کی سربراہی اسکیم مالی دشواریوں کا شکار

   

حکومت سے واٹر بورڈ کی نمائندگی، الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ سے تال میل کی کوشش
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں عوام سے ماہانہ 20 ہزار لیٹر مفت پانی کی سربراہی کا وعدہ کیا تھا۔ ڈسمبر میں انتخابات کی تکمیل ہوگئی لیکن دو ماہ گذرنے کے باوجود حکومت کو اسکیم پر عمل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ حکومت نے اسکیم کے آغاز کیلئے نئے میٹرس نصب کرنے و صارفین کے اکاؤنٹس کو آدھار سے مربوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک طرف یہ کام جاری تھا تو دوسری طرف پانی کی سربراہی اسکیم مختلف محکمہ جات کے درمیان داخلی طور پر تنازعہ کا سبب بن چکی ہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اور سیوریج بورڈ کو اسکیم پر عمل کرنا ہے۔ واٹر بورڈ کا دعویٰ ہے کہ وہ صارفین سے 1100 کروڑ کے بقایا جات کی یکسوئی سے قاصر ہے اور وہ پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں برقی چارجس متحمل نہیں ہوسکتے۔ بورڈ نے کمزور مالی موقف کا اشارہ دیتے ہوئے الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ سے خواہش کی ہے کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری تک برقی کنکشن منعقد نہ کیا جائے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واٹر بورڈ کی مالی حالت بہتر بنانے کیلئے سابق میں مناسب فنڈز جاری کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن آج تک بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ واٹر بورڈ نے الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ سے خواہش کی ہے کہ تین ماہ تک کم از کم برقی کی سربراہی کا سلسلہ جاری رکھے۔ الیکٹریسٹی ریگولیٹی کمیشن کو واٹر بورڈ نے اپنی درخواست میں بتایا کہ 2016-17 میں 232.33 کروڑ ۔2017-18 میں 330 کروڑ، 2018-19 میں 299.95 کروڑ ، 2019-20 میں 577.49 کروڑاور 2020-21 میں اکٹوبر تک 265.86 کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ کمزور مالی موقف کے نتیجہ میں واٹر بورڈ اسکیم پر عمل آوری کے بارے میں حکومت کے فنڈز پر انحصار کئے ہوئے ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے علاوہ آؤٹر رنگ روڈ کے علاقوں میں اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ برقی نے واٹر بورڈ پر واضح کردیا کہ وہ ادائیگی کے بغیر برقی سربراہی کے موقف میں نہیں ہے۔ 2017-18 سے برقی شرحوں میں کوئی نظرثانی نہیں کی۔ واٹر بورڈ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مالی موقف پر چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی گئی ہے جس پر انہوں نے مثبت قدم اٹھانے کا تیقن دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ کی منظوری تک الیکٹریسٹی ڈپارٹمنٹ برقی کی سربراہی جاری رکھے گا۔