حالیہ بارش اور سیلاب سے مزید نقصان ، فوری توجہ دینا بے حد ضروری ، حکام خواب غفلت میں
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : موسیٰ ندی کے دونوں اطراف کے علاقوں کو جوڑنے کے لیے تعمیر کئے گئے تاریخی برجس آج بھی استعمال میں ہیں ۔ مگر برسوں سے ان کی مرمت یا بحالی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی حالیہ شدید بارش اور سیلاب نے ان کی کمزور بنیادوں کو مزید نقصان پہونچایا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق تینوں برجس خستہ حالات کا شکار ہوگئے ہیں اور بنیادیں شدید طور پر متاثر ہوئی ہیں ۔ کبھی یہ برجس شہر کی ترقی کی علامت سمجھے جاتے تھے ۔ موسیٰ ندی کے دونوں کناروں کے درمیان فاصلہ محض 200 سے 300 میٹرس ہے ۔ موسیٰ رام باغ کا برج بند کردینے سے عوام کو 5 کلو میٹر کا اضافی سفر کرنا پڑرہا ہے ۔ منچی ریولہ برج کے منہدم ہونے کے بعد گاڑیاں چلانے والوں کو ٹیپو خان برج ، سن سٹی اور اپا جنکشن کے گرد چکر لگانے پڑ رہے ہیں ۔ جس سے فاصلہ 10 سے 15 کلو میٹر تک بڑھ گیا ہے ۔ حالیہ سیلاب کے دوران او آر آر سرویس روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر مفلوج ہوگئی ۔ دو پہیہ گاڑی سواروں کو صرف 200 میٹرس دور علاقے تک پہونچنے کے لیے 15 کلو میٹر کا سفر طئے کرنا پڑا ۔ شہر کے اہم علاقے ایم جی بی ایس ، کوٹھی ، کاچی گوڑہ سے روزانہ لاکھوں گاڑیاں چادر گھاٹ برج کے راستے سے ملک پیٹ کی طرف سفر کرتے ہیں ۔ مگر حالیہ سیلاب نے اس پل کو بھی برح طرح متاثر کیا ۔ پوری ریلنگ بہہ جانے کے بعد حکام نے عارضی انتظامات کے ذریعہ ٹریفک کو بحال کیا ہے ۔ لیکن برج کی گنجائش اور سلامتی پر خدشات برقرار ہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اگر بروقت مرمت یا نئے برجس تعمیر نہیں کئے گئے تو کسی بڑے سانحہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ شہر میں تقریبا 55 کلو میٹر علاقے سے موسیٰ ندی گذرتی ہے ۔ سابق بی آر ایس حکومت نے اس کے اطراف 15 نئے برجس تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ جس کی لاگت 545 کروڑ بتائی گئی تھی ۔ ابتدائی طور پر 50 کروڑ روپئے کے بجٹ سے کام شروع کیا گیا ۔ اُپل منڈل کے حدود میں پیرزادی گوڑہ ، بنڈلہ گوڑہ کو جوڑنے کے لیے 40 کروڑ سے تعمیر کیا جانے والا برج 50 فیصد مکمل ہوا ہے ۔ چنتل میٹ میں زمینی معائنہ اور موسیٰ رام باغ و چادر گھاٹ برجس کی تعمیرات کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ تمام منصوبے تعطل کا شکار ہوگئے ۔ نئے انتظامیہ کی عدم دلچسپی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے ۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر عوامی سلامتی اور بنیادی سہولیات کو اولین ترجیح دیں اگر فوری توجہ نہیں دی گئی تو مستقبل میں حیدرآباد کا ٹریفک نظام مکمل طور پر مفلوج ہوسکتا ہے ۔ برجس کی دیواروں پر جھاڑیاں اُگ چکی ہیں ۔۔ 2