۔10دن میں ایک روپیہ زائد مہنگا، ایکسائیز ٹیکس میں کمی ضروری
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں گذشتہ 10 دنوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا۔ ڈسمبر میں 4 ہفتوں تک فیول کی قیمتیں جوں کی توں برقرار رہیں جس سے عوام کو عارضی طور پر راحت ملی لیکن جنوری میں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتہ سے اس کا آغاز ہوا اور ہفتہ کے دن حیدرآباد میں پٹرول 88.11 روپئے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 18.72 روپئے فی لیٹر فروخت ہوا ہے۔8 ڈسمبر سے 5 جنوری تک پٹرول کی قیمت 87.06 روپئے فی لیٹر اور ڈیزل 80.60 فی لیٹر فروخت کیا گیا تھا۔ گذشتہ 10 دنوں میں پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ 5 پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 12 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول ڈیلرس کے مطابق بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان ہے جس کے نتیجہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ جب کبھی خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو اور ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر میں کمی ہو فیول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ تلنگانہ پٹرولیم ڈیلرس اسوسی ایشن کے ونئے کمار نے بتایا کہ جب تک مرکز ایکسائز ڈیوٹی میں کمی نہیں کرتا اس وقت تک شہر میں فیول کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عوام کو راحت دینے کیلئے ایکسائیز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کرے گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران قیمتوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا جبکہ جون اور ڈسمبر کے دوران بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔5 جنوری کو پٹرول کی قیمت 87.06 فی لیٹر جبکہ ڈیزل 80.60 روپئے فی لیٹر تھا جو 16 جنوری کو علی الترتیب 88.11 روپئے اور 81.72 روپئے ہوگیا۔