شہر کو پہونچنے والی پیاز راستے میں ہی خرید کر دیگر مقامات کو منتقل کی جارہی ہے
حیدرآباد۔10 ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک میں پیاز کی قلت کا سرمایہ کاروں کی جانب سے استحصال کرتے ہوئے بہترین تجارت کا سامان تصور کیا جا رہاہے اور شہر حیدرآباد میں پیاز کی تجارت میں سرمایہ کاری اور پیاز کی کالا بازاری عروج پر پہنچتی جا رہی ہے کیونکہ سرمایہ کار طبقہ کے بعض گروہوں کی جانب سے شہر حیدرآباد پہنچے والی پیاز کو شہر میں داخل ہونے سے قبل ہی خرید کرمختلف مقامات کو منتقل کیا جانے لگا ہے جو کہ پیاز کی قیمتوں پر قابو پانے میں دشواری کا اہم سبب بنا ہوا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں پیاز کی قیمت180 روپئے سے تجاوز کرچکی ہے اور پیاز کی قیمت پر قابو پانے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کے اعلانات کئے جا رہے ہیں لیکن حکومت بالخصوص محکمہ زراعت اور شعبہ مارکٹنگ کو چاہئے کہ وہ شہر پہنچنے والی پیاز کی فروخت کے مقامات کا جائزہ لیں کیونکہ پیاز کی قلت کے باوجود مغربی بنگال سے شہر حیدرآباد پہنچنے والی پیاز کو شہر میں داخل ہونے سے قبل ہی اس کی قیمت اداکرتے ہوئے خریدا جا رہا ہے اور یہ تاجرین جو کہ دراصل پیاز کے تاجر نہیں ہیں بلکہ مختصر مدتی سرمایہ کاری کے ذریعہ زبردست فوائد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیںاور انہیں ان کوششوں میں کامیابی حاصل ہورہی ہے کیونکہ محکمہ زراعت اور شعبہ مارکٹنگ کے عہدیداروں کی ملی بھگت کے سبب کئی لاری پیاز جو کہ بازار میں پہنچانے کیلئے شہر میں داخل ہورہی ہے وہ شہر کے مختلف مقامات پر پہنچائی جا رہی ہے اور اس کی کالا بازاری کے سبب قیمتوں پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوتا جا رہاہے۔عہدیداروں کا کہناہے کہ جو پیاز کی لاریاں گنج اور بازار میں پہنچتی ہیں ان کی ہی گنتی ممکن ہے اسی لئے ان لاریوں کو گنج یا بازار تک پہنچنے ہی نہیں دیاجارہا ہے اور چوری سے دیگر مقامات کو منتقل کرتے ہوئے چلر فروشی کی دکانات پر پہنچایاجانے لگا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ کالابازاری کرنے والوں میں وہ لوگ بھی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جن کا دور دور تک بھی پیاز کے کاروبار سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ سرمایہ کاری کی غرض سے تجارت میں پیسہ لگاتے ہیں لیکن اب انہیں پیاز کی تجارت منافع بخش نظر آرہی ہے اور اسی لئے وہ اس میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے بھاری منافع کما رہے ہیں لیکن اس کے منفی اثرات معصوم اور غریب شہریوں پر مرتب ہو رہے ہیں اور پیاز کی قیمت پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے عوام کو بھاری قیمت میں پیاز حاصل کرنی پڑرہی ہے۔