حیدرآباد میں ڈبل ڈیکربسیں چلانے کا منصوبہ،قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر کرائے پر حاصل کرنے کی تجویز

   

حیدرآباد29دسمبر(یواین آئی) شہر حیدرآباد میں ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کے منصوبہ کا سابق میں اعلان کیا گیاتھا’ لیکن ڈبل ڈیکر بسوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے سبب کارپوریشن کی جانب سے ان بسوں کو خریدنے کے بجائے کرایہ پر حاصل کرنے کے منصوبہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کمپنیوں کی جانب سے ڈبل ڈیکر فی بس کی خریدی پراس کی قیمت تقریباً 70لاکھ روپے ہورہی ہے اور اتنی زیادہ قیمت دے کر بسیں خریدنا فی الوقت کارپوریشن کے لئے مشکل ہے ۔ اس وقت کارپوریشن میں کرایہ پر بسیس حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ تاحال تقریباً 3ہزار کرایہ کی بسیں کارپوریشن کے زیراستعمال ہیں۔ مزید 70 بسوں کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے ۔ اطلاعات ملی ہیں کہ ڈبل ڈیکر بسیں بھی کرایہ پر حاصل کرنے کے منصوبہ پر غور کیا جارہا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں 2006ء تک ڈبل ڈیکر بسیں باقاعدہ طور پر چلائی جاتی تھیں۔ بھاری نقصان کے سبب ان بسوں کو سڑکوں سے ہٹا لیا گیا لیکن چند ماہ قبل ایک شہری نے ڈبل ڈیکر بسوں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا جس پر ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق نے اس ٹویٹ کو وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار کو ٹیگ کرتے ہوئے یہ خواہش ظاہر کی کہ دوبارہ آر ٹی سی کی جانب سے ڈبل ڈیکر چلائی جائے تو بہتر ہوگا۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے اس پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ابتدا میں تجرباتی طور پر 20 بسیں خریدنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس وقت آر ٹی سی کی جانب سے ٹنڈرس طلب کئے گئے اور اشوک لی لینڈ کمپنی کا انتخاب ہوا۔ ایک بس کی قیمت کمپنی کی جانب سے 70لاکھ روپے بتائی گئی۔ موجودہ وقت میں کارپوریشن کی مالی صورتحال اتنی مستحکم نہیں ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ کارپوریشن اس بات پر غور کررہا ہے کہ عام بسیں جن کی طلب زیادہ ہے ڈبل ڈیکر کے بجائے ان بسوں کو خریدا جائے ۔ ساتھ ہی ساتھ ڈبل ڈیکر بسیں کرایہ پر حاصل کرنے پر بھی غور کرتے ہوئے یہ ذمہ داری اشوک لی لینڈ کمپنی کو سونپنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ خواہشمند اداروں سے ڈبل ڈیکر بسیں کرایہ پر چلانے کی خواہش کی گئی ہے ۔ اس مسئلہ پر بہت جلد وضاحت آنے کا امکان ہے ۔