حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا کیسس کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن ملک کے اہم شہروں کے سروے کے مطابق حیدرآباد میں کیسوں کی مثبت شرح دیگر شہروں کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ حیدرآباد میں کورونا انفیکشن کے کیسس میں اضافہ درج کیا گیا ۔ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی جانب سے ملک کے 24 مختلف شہروں میں 10427 افراد میں سروے کیا گیا جوکہ ان کے فون میں وائرس کی موجودگی سے متعلقہ تھا۔سروے میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ حیدرآباد میں کورونا انفیکشن کی شرح 18 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ شہر کے 2073 افراد کے خون کے نمونے حاصل کرکے کووڈ۔19 اینٹی باڈی ٹسٹ کیا گیا جس میں پتہ چلا ہے کہ 18 فیصد افراد میں انفیکشن کے آثار پائے گئے ۔ کورونا کی مثبت شرح کے معاملہ میں چینائی دوسرے نمبر پر ہے جہاں 16 فیصد افراد میں انفیکشن پایا گیا جبکہ دہلی میں یہ شرح 14 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ سروے رپورٹ کے مطابق عوام میں وائرس سے نمٹنے اندرونی مزاحمتی قوت درکار مقدار میں نہیں ہے جس کے نتیجہ میں کورونا وباء سے نمٹنے کے لئے موثر ویکسین کی ضرورت پڑے گی ۔ سروے کا آغاز جون 2020 ء میں IGIB ادارہ میں کیا گیا تھا ۔جبکہ جولائی اور ستمبر میں بعض دیگر اداروں میں ٹسٹ کئے گئے۔ سروے میں اس بات کا پتہ چلا ہے کہ ایک مرتبہ متاثر ہونے کے بعد آئندہ 6 ماہ تک اسی وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کے امکانات برقرار رہتے ہیں اور مزاحمتی طاقت میں اضافہ کے ذریعہ مقابلہ کیا جاسکتا ہے ہے۔ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی بھی وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے سے بچاؤ کے لئے جسم کی دفاعی طاقت میں استحکام ضروری ہے۔ 3 سے 6 ماہ تک کسی بھی وائرس سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔