حیدرآباد میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ پر تشویش کا اظہار

,

   

مرکزی ٹیم کا ریاستی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس، مختلف اُمور پر تبادلہ خیال
حیدرآباد۔10جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے حدود میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے مریضوں کی تعداد پرمرکزی حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور آج کمشنر بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر لوکیش کماراور ضلع کلکٹر حیدرآباد مسزشویتاموہنتی سے مرکزی حکومت کے عہدیداروں نے رابطہ قائم کرتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کی ۔ دونوں اعلی عہدیداروں سے مرکزی حکومت کی ٹیم نے ملاقات کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کو روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق تفصیلات دریافت کیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جس رفتار سے کورونا وائر س کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ماہ جولائی کے دوران شہر کے حالات انتہائی ابتر ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جو معائنہ کئے جارہے ہیں

ان میں 70 فیصد مریضوں کو کورونا وائرس پایا جانے لگا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ مرکزی حکومت کی ٹیم میں شامل اعلی عہدیداروں مسٹر سنجئے جاجو کے علاوہ دیگر موجود تھے جنہوں نے شہر میں کورونا وائرس کے متاثرین کے علاقوں کو کنٹینمنٹ زون قرار دیئے جانے کی تفصیلات حاصل کیں۔ بتایاجاتا ہے کہ عہدیدارو ںنے کورونا وائرس کے مریضوں کو گھروں میں قرنطینہ میں رکھنے کی پالیسی کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مریضوں کی تعداد میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے اور مصدقہ مریضوں کو گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا ناگزیر ہوجائے گا۔ مرکزی عہدیدارو ںنے جی ایچ ایم سی حدود میں موجود اضلاع کے علاوہ جن اضلاع میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے ان کے واٹس اپ گروپ بناتے ہوئے مریضوں کی جانچ کی حکمت عملی تیار کرنے پر زوردیا ہے۔ واضح رہے کہ چند یوم قبل گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندرا راجن نے ڈاکٹرس کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع کے بعد شخصی طور پر متاثرہ ڈاکٹرس سے ملاقات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو رپورٹ روانہ کی تھی اور اس رپورٹ کے سلسلہ میں کہا جا رہا تھا ریاستی گورنر نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات میں ریاستی حکومت کو ناکام قرار دیا تھا۔