حیدرآباد میں 112 برس بعد ماہ رمضان کی ظاہری رونقیں ماند

,

   

۔1908 کی طغیانی نے شہر کو تالاب بنادیا تھا ۔ 2020 میں کورونا وائرس نے صحرا بنادیا

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد 24 اپریل: حیدرآباد کی تاریخ میں ماہ رمضان المبارک کی رونقیںدوسری مرتبہ ماند پڑی ہیں اور شہر کی مساجد اور بازار سب ویران ہوچکے ہیں۔ شہر کے ماہ رمضان کو دنیا بھر میں کئی چیزیں منفرد بناتی تھیںجس میں ماہ رمضان المبار ک کے دوران مساجد میں خصوصی عبادتوں کا اہتمام ‘ شہر کے کئی مکانوں میں سماعت قرآن کی محافل ‘ رمضان کے خصوصی بازاروں کے علاوہ خصوصی اشیائے خورد ونوش کے علاوہ ماہ رمضان المبارک کے دوران غرباء میں اشیائے ضروریہ کی تقسیم کے علاوہ جمعۃ الوداع کا اہتمام کیا جانا ۔ شہر کی بیشتر مساجد میں ماہ مقدس کے دوران جمعہ کے دن جلسہ ہائے یوم القرآن ‘ حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں اس ماہ مبارک میں مصروف تجارتی سرگرمیوں کے باوجود شہادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے موقع پر ہوٹلوں کا بند رکھا جانا ۔یوم بدر کے موقع پر یاد شہدائے بدر اور غزوہ بدر کی یاد تازہ کرنے کے علاوہ قرآن فہمی معہ تراجم و تفاسیر کے اجتماعی انعقاد کے سبب دنیا کے کئی سرکردہ اہم شہروں میں حیدرآباد کو فوقیت و انفرادیت حاصل تھی ۔ اسی طرح شہر کی مساجد میں ماہ صیام کے آخری دہے کے دوران معتکفین کے ہجوم رب کائنات کو راضی کرنے میں مصروف نظر آتے اور اسی آخری دہے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کی جاتی تھی۔عام طورپر رمضان میں دہی بڑے اور حلیم کا تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن یہ سرگرمیاں بھی جاری ہوتی ہیں لیکن ان کا تذکرہ کم کم ہوا کرتا ہے لیکن اس مرتبہ شہر سے ماہ صیام کی رونقیں غائب ہوچکی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ حیدرآباد میں رمضان المبارک کی رونقیں کبھی ماند نہیں پڑیں لیکن آزاد ہندستان اور انضمام حیدرآباد کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ شہر میں ماہ رمضان کی رونقوں کو موسی ندی میں آئی 1908کی طغیانی بہا لے گئی تھی کیونکہ 28 ستمبر 1908کو اس قیامت خیز طغیانی کے سبب اس سال رمضان کے دوران شہر کی رونقیں غائب رہیں ۔ کئی شہریان حیدرآباد نے اپنوں کو کھویا اور کئی شہری اپنا سب کچھ لٹا چکے تھے۔ 28ستمبر 1908 کو آئی طغیانی نے شہر میں 1326 ہجری کے رمضان المبارک کی رونقوں کو ماند کردیا تھا کیونکہ 28 ستمبر 1908کو 3 رمضان المبارک 1326 ہجری تھی۔ ہندستان کی آزادی 15اگسٹ 1947 کے موقع پر ماہ رمضان المبارک تھا اور شمالی ہند میں حالات انتہائی سنگین ہوتے جا رہے تھے اسکے باوجود ریاست حیدرآباد میں دکن ماہ رمضان کی رونقیں جوں کی توں برقرار تھیں اسی طرح ریاست حیدرآباد دکن پر سب سے بڑی افتاد پولیس ایکشن جو ستمبر 1948میں ہوا تھا اس وقت ماہ ذیقعدہ جاری تھااور 1367ہجری تھی اسی لئے پولیس ایکشن سے بھی ماہ رمضان المبارک کی رونقوں پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا لیکن آزاد ہندستان کی تاریخ میں شہر میں ماہ رمضان المبارک کی رونقیں کبھی ماند نہیں پڑی تھیں۔شہر کو اس طرح کے ماہ رمضان المبارک کا سامنا 112 سال کے بعد کرنا پڑرہا ہے جس میں ظاہری رونقیں نظر نہیں آئیں گی لیکن حالات اس ماہ مقدس کے دوران رجوع الی اللہ ہونے پرصمیم قلب سے آمادہ کریں گے کیونکہ جن پریشانیوں کا دنیا کو سامنا ہے اس کے حل کیلئے صرف دعا کی جاسکتی ہے۔1908 عیسوی کے رمضان المبار ک میں طغیانی نے شہر کی سڑکوں اور محلوں کو تالابو ںمیں تبدیل کردیا تھا اور 2020 کے رمضان المبارک کے دوران شہر کی سڑکیں صحرا میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ شہر کی مساجد میں جمعہ کی نماز پر پابندی کی مثال بھی 112 سال بعد ہی ملتی ہے یعنی سال 1908 کی طغیانی کے بعد ایک سے زائد جمعہ تک شہر کی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی تھی اور اب یہ صورتحال ہے کہ کورونا وائر س کے سبب سماجی فاصلہ کی برقراری کیلئے مساجد میں جمعہ کی نماز اور نماز پنجگانہ کی ادائیگی کیلئے محدود اجازت دی گئی ہے۔1908 کے بعد پہلی مرتبہ شہر میں رمضان کے دوران وہ ظاہری رونقیں نظر نہیں آئیں گی جو عام طور نظر آیا کرتی تھیں۔

سال 2019 میں حرم شریف کی تراویح کا سیاست ٹی وی پر مشاہدہ کیجئے رات 9:30 بجے