حیدرآباد میں 4 جنوری کو عظیم الشان ملین مارچ

,

   

دستور کے تحفظ کیلئے بلالحاظ مذہب و ملت ہر امن پسند شہری کی شرکت متوقع : محمد مشتاق ملک
حیدرآباد۔یکم۔جنوری (سیاست نیوز) ملک میں شہریت قانون میں ترمیم ‘ این پی آر اور این آر سی کے نفاذ کے خلاف شہر حیدرآباد میں 4 جنوری بروز ہفتہ 2بجے دن نکلس روڈ پر عظیم الشان ملین مارچ منعقد کیا جائے گا اور اس ملین مارچ میں ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاع سے عوام شرکت کی توثیق کرنی شروع کردی ہے اور کہا جارہا ہے کہ بعض اضلاع سے تعلق رکھنے والے آئندہ دو یوم کے دوران ہی شہر پہنچ جائیں گے تاکہ لمحہ ٔ آخر کی دشواریوں سے محفوظ رہا جاسکے ۔ منتظمین نے بتایا کہ 4جنوری کو نکلس روڈ پر منعقد ہونے والے ملین مارچ میں ریاست آندھرا پردیش کے 5 اضلاع سے عوام کی شرکت متوقع ہے اور تین اضلاع سے عوام اور تنظیموں کے ذمہ داروں نے شرکت کے سلسلہ میں توثیق کردی ہے۔تلنگانہ و آندھراپردیش جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقد کئے جانے والے اس ملین مارچ میں 40 سے زائد تنظیمیں شامل ہیں اور ملین مارچ کو کامیاب بنانے کے سلسلہ میں تیار کی جانے والی حکمت عملی کے متعلق کہا جار ہاہے کہ کنوینر جناب مشتاق ملک نے دیگر تنظیموں کے ذمہ داروں کے ہمراہ مارچ کے انتظامات کو قطعیت دینے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور آئندہ دو یوم کے دوران ملین مارچ کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔ جناب محمد مشتاق ملک نے بتایا کہ اس ملین مارچ میں جو کہ این آر سی ‘ این پی آر اور سی اے اے کے خلاف منعقد کیا جا رہاہے اس میں جسٹس چندراکمار‘پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ‘ پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی ‘ ڈاکٹر وید کمار بامسیف‘ مسٹر دیسائی نائک امبیڈکر بہوجن ‘ ساؤتھ انڈیا ایڈوکیٹس فورم‘ آل انڈیا یوتھ فیڈریشن ‘آل انڈیا اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے علاوہ پروگریسیو ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس یونین نے شرکت کی توثیق کردی ہے

اور توقع ہے کہ حیدرآباد میں منعقد ہونے والے اس عظیم الشان ملین مارچ کی تائید دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی کی جائے گی۔4جنوری بروز ہفتہ دن میں دو بجے منعقد ہونے والے اس ملین مارچ کے سلسلہ میں جاری انتظامات کے متعلق جناب مشتاق ملک نے بتایا کہ اس ملین مارچ کو پر امن بنانے اور مارچ کے دوران کسی بھی قسم کی شرانگیزی کو روکنے کیلئے والینٹرس کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہو ںنے واضح کیا کہ اب جبکہ عدالتی احکام کے بعد تلنگانہ و آندھرا پردیش جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ملین مارچ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس فیصلہ سے دستبرداری یا اسے ملتوی کرنے کا کوئی سوال ہی پیدانہیں ہوتا کیونکہ جے اے سی نے تمام ہندستانیوں کو اس مارچ میں شرکت کیلئے مدعو کیا ہے اور یہ کسی ایک مذہب یا طبقہ کا احتجاج نہیں ہے بلکہ دستور کے تحفظ اور ملک کو بچانے کیلئے کیا جانے والا احتجاج ہے اس میں ہر امن پسند ہندستانی شہری شرکت کرے گا۔