حیدرآباد میں 7 گھنٹے شدید بارش ، نشیبی علاقے پانی میں محصور ، کشتیوں کے ذریعہ مکینوں کی منتقلی

,

   

جی ایچ ایم سی کی جانب سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے اقدامات ، ساؤتھ زون علاقے راحت کاری سے ہنوز محروم ، عوام نے رات بھر جاگ کر گذاری

ریاستی وزراء کے ٹی آر اور ای دیاکر راؤ نے
ہنگامی صورتحال کا راست جائزہ لیا

حیدرآباد۔27ستمبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں رات دیر گئے شروع ہوئی بارش کا سلسلہ صبح تک جاری رہا اور ہلکی اور تیز بارش کے سبب شہر کے کئی علاقوں میں صبح کی اولین ساعتوں کے ساتھ ہی کشتیوں کے ذریعہ مکینوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے اقدامات شروع کرنے پڑے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں جمعرات کی رات دیر گئے شروع ہونے والی بارش کے سبب شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی مکانات میں داخل ہوگیا اور شہر کے کئی علاقوں سے پریشان حال لوگوں نے بلدیہ اور 100 نمبر پر متعدد شکایات درج کروائی ،جی ایچ ایم سی اور ایمرجنسی عملہ کی جانب سے کئی مقامات پر رات دیر گئے بارش کے پانی کی نکاسی کی جاتی رہی لیکن صبح 7 بجے تک بھی کئی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کے سبب راحت کاری کاموں میں دشواریاں پیش آرہی تھیں اس کے باوجود ترملگری کے علاقوں میں جی ایچ ایم سی عہدیداروں کی نگرانی میں زیر آب آنے والے علاقوں سے شہریوں کی کشتیوں کے ذریعہ محفوظ منتقلی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا تے رہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے شہر کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں فوری راحت کاری کاموں کے طور پر صبح کا ناشتہ فراہم کرنے کے اقدامات کئے گئے اور بارش کے پانی میں پھنس جانے والے شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاتا رہا اور ڈی آر ایف کی ٹیموں کی جانب سے پانی کی نکاسی کا سلسلہ جاری رہا۔دونوں شہروں کے علاوہ شہر حیدرآباد کے مختلف نواحی اور مضافاتی علاقوں سے بھی بارش کا پانی جمع ہوجانے کی شکایات موصول ہوئی جن میں مولی علی ‘ راجندر نگر‘ شیو رام پلی ‘ مادھاپور ‘ شیر لنگم پلی کے علاوہ دیگر علاقے شامل ہیں۔ملکا جگری کے علاقہ آنند باغ سے بھی شہریو ںکو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لئے کشتیوں کا استعمال کیا گیا ۔

بیگم پیٹ ‘ کوکٹ پلی ‘ موسی پیٹ ‘ امیر پیٹ کے علاوہ جوبلی ہلز ‘ رحمت نگر‘ یوسف گوڑہ اوردیگر علاقو ںمیں بھی صبح تک بھی پانی سڑکوں پر جمع رہا جس کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ اور مسٹر ای دیاکرراؤ ریاستی وزیر پنچایت راج کے علاوہ پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمار نے جی ایچ ایم سی عہدیداروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے شہر میں بارش کی صورتحال اور پانی کی نکاسی کے عمل کے متعلق تفصیلات حاصل کرتے ہوئے مزید بارش کی صورت میں کئے جانے والے احتیاطی اقدامات کے سلسلہ میں ہدایات جاری کی ۔ گذشتہ شب ہونے والی بارش کے سبب شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں سالار جنگ کالونی ‘ ٹولی چوکی ‘ چادرگھاٹ‘ سعید آباد‘ کاپرا‘ کاروان‘ گڈی انارم‘مقطعہ مدار صاحب ‘ راج بھون کے علاوہ خیریت آباد اور دیگر علاقوں میں درختوں کے اکھڑنے اور برقی تاروں کے علاوہ پارک کاروں پر گرنے کی بھی شکایات موصول ہوئی جس پر ایمرجنسی ویجلنس کی ٹیموں کی جانب سے گرنے والے درختوں کو فوری ہٹانے کے اقدامات کئے گئے ۔ رات بھر جاری رہنے والی بارش کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ محکمہ داخلہ کو متحرک رہنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی کہ کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال کے دوران فوری طور پر راحت کاری اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے محکمہ مال کے عہدیداروں ‘ ضلع کلکٹرس ‘ تحصیلداروں کے علاوہ دیگر کو بھی اس بات کی ہدایت دی کہ وہ مستعد اور چوکس رہیں تاکہ راحت کاری کاموں کے دورا ن کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔پرانے شہر کے نشیبی علاقوں تالاب کٹہ‘ نشیمن نگر‘ کالا پتھر‘ تاڑبن‘ یاقوت پورہ ‘ مولی کا چھلہ کے علاوہ دیگر علاقوں میں رات دیر گئے مکانات میں بارش کا پانی داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ اسی طرح شہر کے علاقہ گولکنڈہ ‘ محمدی لائنس‘ ٹولی چوکی ‘ ندیم کالونی کے علاقوں میں بھی مکانات میں پانی داخل ہونے کی شکایات موصول ہوئیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ شدید بارش اور سڑکوں پر پانی کے بہاؤکے دوران پانی میں چوہے اور مینڈک کے علاوہ مہدی پٹنم کے علاقہ میں سانپ بھی نکل آیا۔ رات بھر جاری رہی بارش کے دوران شہر کے 18 مقامات پر جی ایچ ایم سی کے ایمرجنسی عملہ کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کے دوران پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا گیا جبکہ دیگر 34 مقامات پر پانی جمع ہونے کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے جی ایچ ایم سی کے عملہ کی جانب سے معذرت ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلسل بارش کے سبب پانی کی نکاسی کے عمل کو تیز کیا جانا دشوار ہے اسی لئے بتدریج شکایات کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساؤتھ زون کے علاقوں میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے کسی بھی نشیبی علاقہ میں فوری حرکت میں آتے ہوئے پانی کی نکاسی یا شہریوں کو راحت پہنچانے کے اقدامات نہیں کئے جس کے نتیجہ میں کئی نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں نے مکمل رات جاگ کر گذار دی اور صبح تک اپنے مکانات سے پانی خارج کرنے میں مصروف دیکھے گئے اور ان کی مدد کے لئے کوئی نہیں پہنچا۔