حیدرآباد نے تاریخ رقم کی ۔ ملین مارچ میں انسانی سروں کا سمندر

,

   

این آر سی /این پی آر میں ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے

٭ ملک کے مزاج اور روح کے خلاف سماج کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا : جسٹس چندرا کمار
٭ گجرات بمقالہ ہندوستان : عامر علی خان ۔ ملین مارچ اختتام نہیں جدوجہد کا آغاز ہے : محمد مشتاق ملک
٭ نریندر مودی چور ہے ‘ اسد اویسی کا دوہرا معیار : ہنمنت راو ۔ اسد اویسی گھر سے نکلو ‘ سڑک پر آو : محمد علی شبیر
٭ مودی و امیت شاہ کو بھاگنا ہوگا : پروفیسر وشویشور راو ۔ این آر سی صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں : فادر انتونی
٭ دستور کے خلاف فیصلے ناقابل قبول : حامد محمد خان ۔ مسلمان و پسماندہ طبقات متحد ہوجائیں : ڈاکٹر کمار

حیدرآباد۔/4جنوری،(سیاست نیوز) تاریخی شہر حیدرآباد نے متنازعہ شہریت قانون این آر سی اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں احتجاج درج کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ بلالحاظ مذہب و ملت اور بلالحاظ عمر لاکھوں سَروں کا سمندر ٹینک بنڈ اور اطراف کے علاقوں میں دیکھا گیا جو’ ہندوستان زندہ باد۔ دستور بچاؤ۔ سیکولرازم بچاؤ اور ملک بچاؤ ‘ جیسے نعرے لگارہا تھا۔احتجاجی مرکز سے متنازعہ شہریت قانون کی واپسی اور این آر سی اور این پی آر پر عمل آوری کے منصوبہ کو ترک کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ایک اندازہ کے مطابق ملین مارچ میں 5 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔حیدرآباد کی تاریخ میں عوامی احتجاج کی یہ اب تک کی دوسری بڑی مثال ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران ملین مارچ کا اہتمام کیا گیا تھا جس کے بعد مرکزی حکومت کے غیردستوری فیصلوں کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ 40 مختلف مذہبی ، سماجی و ثقافتی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ’ملین مارچ ‘ کا اعلان کیا تھا اور عدالت کی مداخلت پر پولیس نے نیکلس روڈ کے بجائے دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت دی۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ٹینک بنڈ اور اطراف کا سارا علاقہ احتجاجی مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ نوجوان موٹر سیکلوں پر قومی پرچم تھامے قافلوں کی شکل میں پہنچ رہے تھے ۔ اسی طرح سینکڑوں اسکول اور کالجس کے طلبہ اور دینی مدارس کے طلباء پیدل پہنچ رہے تھے۔ ضعیف العمر افراد، خواتین، معصوم بچے، مختلف اسکولس اور کالجس کے طلبہ اور نوجوان جوق درجوق جتھوں کی شکل میں قومی پرچم اُٹھائے دھرنا چوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ دوپہر 2 بجے تک دھرنا چوک اور این ٹی آر اسٹیڈیم مکمل بھرچکا تھا اور احتجاجی سکریٹریٹ کے فلائی اوور اور نیکلس روڈ پر پھیل گئے ۔ اگرچہ شام 5 بجے تک احتجاج کی اجازت تھی لیکن وقت گذرنے کے بعد بھی ہزاروں کی تعداد میں عوام کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ حیدرآباد کے علاوہ اضلاع سے بھی عوام بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ لاکھوں احتجاجیوں نے انتہائی ڈسلپن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن احتجاج کے ذریعہ پولیس کو بھی متاثر کردیا۔ کسی بھی مرحلہ پر پولیس کو مداخلت کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی مارچ کے دوران کسی نے اشتعال انگیز نعرے بازی کی۔ ملین مارچ میں لاکھوں عوام کی موجودگی میں ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا کہ کوئی بھی شہری این آر سی اور این پی آر کیلئے اپنے دستاویزات پیش نہیںکریگا ۔ عوام نے قرار داد کی پرزور تائید کی ۔ این آر سی، شہریت قانون اور این پی آر کے خلاف حیدرآباد میں یہ تاریخی ’ملین مارچ‘ عوامی ناراضگی کا مظہر ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیلوں پر احتجاج کے شرکاء نے کوئی مذہبی یا اشتعال انگیز نعرہ نہیں لگایا بلکہ ہندو مسلم اتحاد، دستور، سیکولرازم اور ملک بچانے کے علاوہ متنازعہ قوانین کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ یوں تو ملک کے مختلف حصوں میں عوامی احتجاج اور ریالیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن حیدرآباد میں پولیس نے ریالیوں کی اجازت نہیں دی تھی جس کے سبب آج کے ملین مارچ میں شرکت کیلئے عوام میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ ملین مارچ کی خصوصیت یہ رہی کہ راستوں میں غیر مسلم تاجروں اور مکینوں نے احتجاجیوں کیلئے پینے کے پانی کا انتظام کرتے ہوئے احتجاج سے اپنی یگانگت ظاہر کی۔ ہندو مسلم اتحاد کے عظیم مظاہرہ کو دیکھ کر ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور تھا کہ حیدرآبادی روایات کا احیاء ہوا ہے۔ صبح 11 بجے سے ہی دھرنا چوک پر عوام کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسکول، کالجس اور دینی مدارس نے ملین مارچ میں طلبہ و اساتذہ کی شرکت کیلئے چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ سماج کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد بالخصوص وکلاء بڑی تعداد میں شریک ہوگئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ کی کثیر تعداد شریک رہی۔ خواتین اور ضعیف افراد میں شرکت کیلئے غیر معمولی جذبہ دیکھا گیا اور وہ طویل فاصلہ پیدل طئے کرتے دھرنا چوک پہنچے۔ کئی معذورین کو وھیل چیر اور سہارے کے ساتھ دھرنا چوک پر دیکھا گیا۔ احتجاجیوں کو دھرنا چوک اور اس کے قریبی علاقوں تک پہنچنے کیلئے کافی فاصلے سے پیدل گذرنا پڑا۔ کئی ضعیف مرد و خواتین اپنے ساتھ دوپہر کا ٹفن لائے تھے تاکہ شام تک احتجاج میں شریک رہیں۔ معصوم بچوں کیلئے ساتھ میں کھانے کی اشیاء لائی گئی تھیں۔دھرنا چوک اور اطراف کے میں ظہر کے وقت عوام نے نماز باجماعت ادا کی۔ مختلف انجینئرنگ اور میڈیکل کالجس کے طلبہ اپنے پروفیشنل ڈریس میں احتجاج میں شریک ہوئے۔ احتجاجیوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم کے علاوہ سیاہ پرچم اور پلے کارڈز تھے جن پراین آر سی، شہریت قانون اور این پی آر کے خلاف نعرے درج تھے۔ بعض احتجاجی مہاتما گاندھی، مولانا آزاد اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی تصاویر تھامے تھے۔ شام 4 بجے تک ٹینک بنڈ اور اطراف کے علاقوں میں تل دھرنے کیلئے جگہ نہیں تھی اور عوام کو دھرنا چوک تک پہنچنے جدوجہد کرتے دیکھا گیا۔ ہزاروں احتجاجی اوور برج اور اطراف کے علاقوں میں رکنے پر مجبور ہوگئے۔ شام 5 بجے کے بعد بھی احتجاجیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم منتظمین نے انہیں سمجھا کر واپس کردیا۔ پُرامن اور ڈسپلن کے ساتھ احتجاج کے علاوہ منتظمین نے صحت و صفائی کے عہد کی تکمیل کرتے ہوئے این ٹی آر اسٹیڈیم اور دھرنا چوک کے علاقے کی مکمل صفائی کی۔ وہاں موجود کچرے کوطلبہ اور احتجاجیوں نے صاف کیا جس کی پولیس نے ستائش کی۔ ’ ملین مارچ ‘ میں شرکت اور عوام سے خطاب کرنے والے اہم قائدین میں جے اے سی کے کنوینر محمد مشتاق ملک، جسٹس سی راجندر کمار، پروفیسر وشویشور راؤ، ڈاکٹر کمار، فادر انتونی، سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ، نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب عامر علی خاں،جناب شفیق الزماں سابق آئی اے ایس‘ مسٹر مہیندر سیکریٹری سی پی آئی ایم ‘ امیر جماعت اسلامی مولانا حامد محمد خاں، مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر امارت ملت اسلامیہ، سی پی آئی کے سابق رکن راجیہ سبھا عزیز پاشاہ، کانگریس قائد محمد علی شبیر، مولانا مفتی ابرار الدین، مولانا عبدالمغنی مظاہری، صدر ایم پی جے عبدالعزیز ، ایم بی ٹی ترجمان امجد اللہ خاں خالد، ٹی آر ایس قائد محمد ابراہیم، مولانا محمد حسان فاروقی ‘مولانا محسن بن عبدالرحمن الحمومی’ مسلم لیگ قائد مظہر شہید، تلگودیشم قائد علی مسقطی‘ محمد غوث‘ اور دوسرے شامل ہیں۔ عثمانیہ اور مولانا آزاد اردو یونیورسٹی طلبہ یونین کے نمائندوں نے بھی مخاطب کیا۔ ملین مارچ کا اختتام قومی ترانہ کے ساتھ ہوا، اور ڈسپلن کے ساتھ پُرامن انداز میں شرکا اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہوگئے۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے اے سی کنوینر محمد مشتاق ملک نے ملین مارچ کی کامیابی پربارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر اداکرتے ہوئے عوام سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر احتجاج ممکن نہیں تھا۔