حیدرآباد و سکندرآباد میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں اضافہ

   

Ferty9 Clinic

نوجوان نسل لعنت کا شکار، سڑک چھاپ کے علاوہ اچھے گھرانے کے نوجوان بھی متاثر

حیدرآباد۔15اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں منشیات کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ریکارڈکیا جانے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ دونو ںشہروں کے کئی علاقوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اس لعنت کا شکار ہونے لگے ہیں۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کی جانب سے انہیں منشیات کی فراہمی کے لئے اختیار کی جانے والی مختلف تکنیکوں میں اب منشیات کی بھی ہوم ڈیلیوری کی جا رہی ہے اور نوجوان نسل جو اس لعنت کا شکار ہے وہ بلا کسی خوف و خطر کے منشیات حاصل کرنے لگے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں گانجہ ‘ ہیروئین ‘ کوکین کے علاوہ دیگر منشیات کی فروخت معمول بنتی جا رہی ہے اور گنجان آبادیوں میں بھی ان کی فروخت عمل میں لائی جانے لگی ہے ۔محکمہ پولیس کے عہدیداروں اور مقامی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کو بھی اس بات کا علم ہے لیکن منشیات کے عادی نوجوانوں کی جانب سے نشہ والی ادویات بالخصوص وائٹنرکا نشہ کر رہے ہیں اوران نشہ کے عادی نوجوانوں سے حالت نشہ میں پولیس کی جانب سے تفتیش کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسی لئے پولیس اہلکاروں کی جانب سے حالت نشہ میں موجود نوجوانوں سے تفتیش سے گریز کیا جاتا ہے ۔سڑک چھاپ منشیات کے عادی نوجوانوں کے علاوہ اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے بھی گانجہ اور دیگر نشہ آور اشیاء کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہونے لگا ہے اسی لئے دونوں شہروں میں محکمہ پولیس کے علاوہ نارکوٹکس اور خود والدین کو چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اکثر نوجوان جو منشیات کے عادی ہوتے ہیں وہ منشیات کے استعمال کے بعد کئی گھنٹوں تک سوتے رہتے ہیں اور جب ان کا مکمل آرام ہوجاتا ہے تو وہ بلکل تر وتازہ ہوجاتے ہیں اسی لئے یہ جاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ منشیات کے عادی ہونے لگے ہیں ۔ دو سال کے دوران دو مرتبہ لاک ڈاؤن اور گھروں میں رہنے کی کی عادت کے علاوہ کالجس آن لائن ہونے کے سبب جو نوجوان ذہنی مسائل کا شکار ہونے لگے ہیں اور وہ ان حالات کا حل منشیات میں تلاش کر رہے ہیں جو کہ ان کی زندگی کو تباہ کرسکتا ہے اسی لئے دونوں شہروںمیں منشیات کی دستیابی کے خاتمہ کے اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں۔
ریاستی حکومت اور محکمہ داخلہ کو چاہئے کہ وہ گذشتہ کی طرح بڑے پیمانے پر منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا آغاز کرے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں شہر کی ہر گلی اور سڑک پر نشہ آور چاکلیٹس اور گانجہ حاصل ہونے لگ جائے گا۔