حیدرآباد و سکندرآباد کے ’ ڈرائیوان ‘ ریستوران شراب خانوں میں تبدیل

   

زور دار آواز میں موسیقی ، برسرعام شراب نوشی ، ہنگامہ آرائی سے مکین بھی پریشان حال
حیدرآباد۔23 اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں رات کے اوقات میں ڈرائیو ان کے نام پر چلائے جانے والے ریستوراں شراب خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور ان ڈرائیو ان میں بڑی تعداد میں نوجوان اپنی کاروں میں شراب کی بوتلیںکھول کر استعمال کرنے لگے ہیں۔ شہر میں موجود ڈرائیو ان میں نوجوانوں کی جانب سے رات دیر گئے کھانے پینے کے علاوہ شراب کی سہولت بھی حاصل ہونے لگی ہے اور نوجوان ان مراکز پر اپنی شراب لاتے ہوئے برسرعام استعمال کررہے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔دونوں شہروں میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ڈرائیو ان کلچر کو زبردست فروغ حاصل ہوا ہے لیکن ابتداء میں جو ڈرائیو ان کھولے گئے تھے وہ اب بند کئے جاچکے ہیں لیکن نئے ڈرائیو ان میں جو صورتحال نظر آرہی ہے انہیں دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ یہ ڈرائیو ان اب محض ایک کھانے کی جگہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک اوپن ائیر بار میں تبدیل ہوچکے ہیں۔بنجارہ ہلز پر موجود ایک ڈرائیو ان کے حدود میں رات دیر گئے گاڑیوں میں زور دار آواز میں میوزک اور برسرعام شراب نوشی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں اور ہفتہ اور اتوار کی شب یہ سرگرمیاں کافی زیاد ہوتی ہیں لیکن ان پر کنٹرول کرنے کیلئے یہاں کوئی پولیس کا عملہ نہیں پہنچتا اور نہ ہی ان ڈرائیو ان کے لئے کوئی قانو ن نظر آتے ہیں۔جوبلی ہلز‘ مادھا پور‘ گچی باؤلی کے علاوہ ان پاش علاقوں کے رہائشی علاقوں میں بھی یہ ڈرائیو ان چلائے جانے لگے ہیں اور ان ڈرائیو ان کے سبب اطراف و اکناف کے مکینوں کو ہونے والی دشواریوں کے باوجود بھی ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی کیونکہ ان ڈرائیو ان میں پہنچنے والوں کے علاوہ ان کے ذمہ داروں کے سیاسی رسوخات ان کے خلاف کاروائی میں حائل ہونے لگتے ہیں اسی لئے کئی مقامات پر متعدد شکایات کے بعد اب ارکان اسمبلی کے پاس اس سلسلہ میں شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ ن ڈرائیو ان کے سبب علاقہ میں رات دیر گئے ہنگامہ آرائی ہونے لگی ہے جو کہ شہریوں کے لئے اذیت کا سبب بن رہا ہے اور نوجوان شراب نوشی کے بعد ہنگامہ آرائی بھی کر رہے ہیں لیکن ڈرائیو ان کے ذمہ دارو ںکی جانب سے ہنگامہ آرائی کرنے والے نوجوانوں کو قابو میں کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ اگر یہ جھگڑے پر اترآئیں تومعاملہ بگڑ جائے گا۔M