حیدرآباد پارلیمانی حلقہ میں انتہائی کم ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر

   

Ferty9 Clinic

ہر اسمبلی حلقہ میں 4 ہزار 120 مکانات کا نشانہ ، مجموعی اعداد و شمار کا جائزہ میں انکشاف
حیدرآباد۔18اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہر حلقہ اسمبلی میں 4120 بے گھر خاندانوں کو ڈبل بیڈ روم مکانات کی حوالگی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن پارلیمانی حلقہ حیدرآباد کے حدود میں مجموعی اعتبار سے محض 3485 ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں اور حلقہ پارلیمنٹ حیدرآباد کے حدود میں موجود حلقہ اسمبلی چارمینار کے حدود میں ایک بھی ڈبل بیڈ روم مکانات کا پراجکٹ موجود نہیں ہے جبکہ سب سے کم مکانات حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں تعمیر کرتے ہوئے حوالہ کئے جاچکے ہیں۔ حلقہ پارلیمنٹ حیدرآباد کے حدود میں تعمیر کئے جانے والے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ میں سب سے زیادہ ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے جا رہے ہیں جہاں 900 ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیری پراجکٹس جاری ہیں۔ دوسرے نمبر پر حلقہ اسمبلی کاروان ہے جہاں پر 840 مکانات کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ تیسرے نمبر پر حلقہ اسمبلی بہادر پورہ ہے جہاں 820 ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر مکمل کی جاچکی ہے۔ اسی طرح چوتھے نمبر پر حلقہ اسمبلی گوشہ محل ہے جہاں 577 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ پانچویں مقام پر حلقہ اسمبلی ملک پیٹ ہے جہاں 300 ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے اور سب سے کم چھٹے نمبر پر یاقوت پورہ میں 48 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کرتے ہوئے حوالہ کئے جاچکے ہیں۔ حلقہ اسمبلی چارمینار میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں ایک بھی پراجکٹ کا آغاز نہیں کیاگیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ حلقہ اسمبلی چارمینار کے حدود میں کوئی کھلی سرکاری اراضی یا سلم علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کی جاسکے ۔ حکومت کی جانب سے تیار کئے جانے والے منصوبہ کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں ہر اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بے گھر خاندانوں کو ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی عمل میں لائی جائے گی اور پہلے مرحلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے ہر اسمبلی حلقہ سے 4120 استفادہ کنندگان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کو استفادہ کنندگان کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ بلدی نظم ونسق کی جانب سے اس سلسلہ میں نومبر 2020میں جاری کئے گئے جی او نمبر 4 میں ضلع کلکٹر اور کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو بے گھر افراد اور درخواست گذاروں کی نشاندہی کا اختیار دیا گیا ہے اور وہ ان ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے اہل افراد کی نشاندہی کو یقینی بنائیں گے۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ میں 3مقامات پر 900 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں بندلہ گوڑہ میں 2 پراجکٹس ہیں اور جنگم میٹ کے علاقہ میں ایک پراجکٹ شامل ہے۔ان تینوں پراجکٹس کی جملہ مالیت 81.68کروڑ ہے اور تینوں پراجکٹس پر کام قریب الختم ہے۔ حلقہ اسمبلی کاروان کے علاقہ ضیاء گوڑہ میں 840 ڈبل بیڈ رومفلیٹس کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے اور یہ فلیٹس استفادہ کنندگان کے حوالہ بھی کردیئے گئے ہیں۔اس پراجکٹ کی جملہ مالیت 75 کروڑ رہی۔حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں سید صاحب کے باڑہ کو حاصل کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 48 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کئے ہیں جو کہ استفادہ کنندگان کے حوالہ کئے جاچکے ہیں۔اس پراجکٹ کی مالیت 3.96 کروڑ رہی۔حلقہ اسمبلی بہادر پورہ میں فاروق نگر علاقہ میں جملہ 820ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں جو کہ قریب الختم ہیں اس پراجکٹ کی جملہ مالیت 73 کروڑ ہے۔ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں دو مقامات پر جملہ 300 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں جن میں کھڑکی بود علی شاہ میں 12 ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر مکمل کرنے کے بعد استفادہ کنندگان کے حوالہ کئے جاچکے ہیں جبکہ پیلی گڑی سیلو میں 288 ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے دونوں پراجکٹس کی جملہ مالیت 27.34کروڑ ہے ۔ حلقہ اسمبلی گوشہ محل میں 4مختلف مقامات کٹل منڈی ‘ گھوڑے کی قبر‘ مرلی دھر باغ اور کلثوم پورہ میں 577 ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے اور اس پراجکٹ کی مالیت 49.59 کروڑ ہے۔ کٹل منڈی اور گھوڑے کی قبر کے قریب تعمیرکئے گئے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد انہیں استفادہ کنندگان کے حوالہ بھی کردیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ہر اسمبلی حلقہ سے 4120 استفادہ کنندگان کی نشاندہی اور انہیں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی کے سلسلہ میں جاری کردہ احکامات پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقداما ت کئے جائیں گے اور جن حلقہ جات اسمبلی میں اتنے فلیٹس تعمیر کرنے کی گنجائش نہیں ہے ان حلقہ جات اسمبلی کے درخواست گذاروں کو شہر کے اطراف اندرون 30 کیلو میٹر جاری پراجکٹس میں فلیٹس کی حوالگی عمل میں لانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کے منصوبہ کا جائزہ لیا جائے تو اس اعتبار سے شہر حیدرآباد میں رہنے والے بے گھر خاندانوں کی بڑی تعداد کو شہر سے باہر موجود پراجکٹس میں ہی فلیٹس کی فراہمی عمل میں لائی جائے گی۔M