حیدرآباد پبلک اسکول میں 19 ویں صدی کی ویران باؤلی کو بحال کرنے کے اقدامات

   

حیدرآباد :۔ حیدرآباد پبلک اسکول کے جنوب مشرقی گیٹ کے قریب زرعی مقصد کے لیے استعمال کی جانے والی ایک باؤلی (Stepwell) ہے جس کے اب باقیات دکھائی دیتے ہیں اس باؤلی کے بارے میں بہت کم لوگ معلومات رکھتے ہیں ۔ حتی کہ اس اسکول کے بیشتر طلبہ اور اساتذہ بھی اس سے لا علم ہیں ۔ 19 ویں صدی کی اس باؤلی کا اب بحال کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جو 25 فٹ گہری ہے ۔ اس کی تاریخی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ اسکول اسے بحال کرنے پر توجہ دے رہا ہے ۔ یہ باولی حیدرآباد پبلک اسکول کے قیام سے پہلے کی ہے جس کی تعمیر 1919 میں شروع ہوئی تھی ۔ اس باولی سے قریب کے پودوں کو پانی دینے کے لیے پانی کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ جس میں ناریل ، کھجور کے درخت اور دھان کی فصل شامل تھی ۔ دراصل اس باؤلی کے پانی کا 1970 کی دہائی تک بھی کیمپس میں دھان اگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ جس سے اسکول خود مکتفی ہوتا تھا ۔ حیدرآباد پبلک اسکول کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں یہ بات بتائی ۔ وقت گذرنے کے ساتھ اس باؤلی کا استعمال نہیں کیا جانے لگا جس کی وجہ یہ تاریخی باؤلی مچھروں کی افزائش کا مقام بن کر رہ گئی ۔ پیپل کی جڑوں کو اس کے دیوار میں آئے شگافوں میں دھنسا ہوا اعلانیہ دکھائی دیتا ہے ۔ آرکیٹکٹ یشونی راما مورتی جو اس اسکول کے سابق طالب علم ہیں ، ریسرچرس کی ایک ٹیم کے ساتھ اس باؤلی کو اس کی اصلی حالت میں لانے کے سلسلہ میں کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ باؤلی اس اسکول کے نشیبی حصہ میں واقع ہے اور اس طرح یہ سال بھر استعمال کے لیے پانی کو اسٹور کرنے کے لیے موزوں ہے ‘‘ ۔ حیدرآباد ڈیزائن فورم ریسرچ ٹیم کی رکن کلپنا رمیش نے کہاکہ اس کیمپس کا ایک آبگیر علاقہ ہے جس سے سالانہ تقریباً پندرہ کروڑ لیٹر پانی حاصل ہوسکتا ہے اس پانی کو سڑکوں پر بہہ جانے اور ضائع ہونے دینے کے بجائے اسے اس باؤلی میں لانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ رمیش نے کہا سات لوگوں کی ایک ٹیم کو اس کی صفائی اور اس میں خود رو پودوں کی صفائی کے لیے مامور کیا گیا ہے اور یہ اس باؤلی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے ۔ مسٹر رمیش نے جو رین واٹر پراجکٹ کے فاونڈر بھی ہیں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کے اندر پانی کا رسنا ہورہا ہے۔ جس کا مطلب ہے زیر زمین اکویفائرس دوبارہ سرگرم ہورہے ہیں ‘ ۔ انورادھا ریڈی ، کنوینر انٹیک حیدرآباد نے بھی اس طرح کی باؤلیوں کی اہمیت و افادیت کے بارے میں بتایا ۔ حیدرآباد پبلک اسکول نے ایک بیان میں کہاکہ ’ اس باؤلی کی بحالی کا عمل اسکول کی ایک بڑی مہم کا حصہ ہے تاکہ طلبہ کو ان کے قدرتی اور تاریخی ہیرٹیج سے واقف کروایا جائے ۔ یہ کام مکمل ہونے کے بعد دیگر دو باؤلیوں کو بھی بحال کیا جائے گا ۔۔