کولکتہ، یکم اپریل (یو این آئی) ایڈن گارڈنز کے تاریخی میدان پر جمعرات کو ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے مقابلے میں کولکتہ نائٹ رائڈرز (کے کے آر) کو جہاں اپنے گھریلو میدان اور سازگار حالات سے واقفیت کا فائدہ ملنے کی امید ہے ، وہیں سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) اپنی دھماکہ خیز بیٹنگ کی طاقت پر بھروسہ کررہی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حیدرآباد کے بیٹرس کولکتہ کی اسپن پر مبنی گیند بازی پر حاوی ہو پائیں گے ، یا کے کے آر کا توازن اورگھریلو برتری ایک بار پھر اپنا رنگ دکھائے گی۔ایڈن گارڈنزکی پچ کبھی بھی خاموش تماشائی نہیں رہتی اور یہاں رنزکی بارش کے ساتھ ساتھ اچانک وکٹیں گرنے کے مناظر بھی عام ہیں۔ یہ پچ بیٹرس کو رنز بنانے کا موقع تو دیتی ہے لیکن ساتھ ہی صبر و تحمل کا انعام بھی دیتی ہے اور جلد بازی کرنے والے کو سزا ملتی ہے ۔ رات کے وقت گیند بیٹ پر اچھی طرح آتی ہے جس سے اسٹروک پلے میں مدد ملتی ہے ، تاہم اسپنرزکو بھی یہاں اتنی مدد میسر ہوتی ہے کہ درمیانی اوورز میں بیٹرس کی تکنیک اور ہمت کا کڑا امتحان ہوتا ہے ۔کولکتہ نائٹ رائڈرز کی ٹیم منظم جارحیت کی ایک بہترین مثال ہے ۔ اجنکیا رہانے اننگز کے آغاز میں استحکام لاتے ہیں اور وہ ایک ایسے کھلاڑی ہیں جو رنز کے ساتھ ساتھ کریز پر ٹکنے کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں۔دوسری جانب حیدرآباد پہلی کامیابی کیلئے کوشاں ہوگی۔