حیدرآباد کا تاریخی پرانا پل خستہ حالی کا شکار

   

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کا 400 سالہ قدیم تاریخی پرانا پل زبوں حالی کا شکار ہوچکا ہے ۔ تاریخ میں اس کی اس لیے بھی اہمیت ہے کہ یہ شہر کا سب سے پہلا ( پل ) برج ہے ۔ جس کو 1578 میں ابراہیم قلی قطب شاہ نے اس کو تعمیر کروایا ۔ قلعہ گولکنڈہ سے براہ کاروان پرانے شہر پہونچنے کے لیے یہ پرانا پل تعمیر کیا گیا تھا ۔ آصف جاہی دور میں تعمیر شدہ اس پل کی کئی تاریخی اہمیت و خاصیت ہے ۔ لیکن اس کو مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ 400 سال کے دوران دو تین مرتبہ بڑے سیلاب آنے کی وجہ سے جو بھی معمولی نقصانات ہوئے تھے اس کو دور آصفیہ جاہی کے حکمرانوں نے درست کرایا تھا ۔ فی الحال اس مارکٹ پر ترکاری فروخت کی جارہی ہے ۔ بعض مقامات پر پل کی دیواروں کو نقصان بھی پہونچا ہے جس سے پل کے لیے خطرات پیدا ہوئے ۔ مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی اور ریاستی وزیر سیاحت وی سرینواس گوڑ کو پرانا پل پر توجہ دیتے ہوئے تاریخی ورثہ کو تحفظ کرنے اور اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ ن