حیدرآباد کا جواب نہیں امریکی سیاستداں اشفاق حسین سید کا خصوصی انٹرویو

   

محمد ریاض احمد
ساری دنیا میںحیدرآباد فرخندہ بنیاد کی میں اپنی ایک علحدہ منفرد شناخت و پہچان ہے اور قلی قطب شاہ کے بسائے ہوئے اس شہر کی محبت مروت ہمدردی ایثار و قربانی اور مہمان نوازی ساری عالم میں مشہور ہے ۔ دنیا کے نقشہ میں حیدرآباد کو ایک خصوصی مقام دلانے میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کا اہم کردار ہے ۔ ان کی دولت ان کے لاقیمت ہیرے و جواہرات بیش قیمتی موتیوں اور عقلوں کو حیران کرنے والی نوادرات کے آج بھی ساری دنیا میں چرچے ہیں۔ ایلون مسک زائد از 722 ارب ڈالرس اثاثوں کے مالک ہیں، اس کے باوجود وہ نواب میر عثمان علی خاں کا کسی بھی طرح مقابلہ نہیں کرسکتے۔ 22 فروری 1937 کو ٹائم میگزین کے سرورق پر آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی تصویر بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی گئی تھی اور اس دور میں انہیں دنیا کی متمول شخصیت قرار دیا گیا تھا ۔ 1937 میں ان کی دولت کا تخمینہ 236 ارب ڈالرس لگایا گیا تھا ۔ (آج اس کی قدر دیکھی جائے تو 1.8 کھرب ڈالرس ہوتی ہے) حضور نظام ہزار کروڑ روپئے سے زائد مالیتی جیکب ڈائمنڈ کو پیپر ویٹ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے) بہرحال ہمارا یہاں آصف سابع کا حوالہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ سرزمین دکن ہمیشہ ایسے ہیروں سے مزین رہی ہے جن کے دنیا بھر میں چرچے ہیں، جن میں کچھ امریکہ میں مقیم رہ کر نہ صرف حیدرآباد بلکہ سارے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان میں آپ کو غزالہ فردوس ہاشمی نظر آتی ہیں تو 25 سالہ نبیلہ سید امریکی سیاست میں اپنی باوقار موجودگی کا احساس دلاتے دکھائی دیتی ہیں۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد حمیدالدین کی خدمات کا بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے ۔ عباس عقیل عوام کی خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ حیدرآبادی نژاد والدین کے سپوت سنیٹر مجتبیٰ محمد بھی غیر معمولی حیدرآبادی امریکی یعنی ہندوستانی نژاد امریکیوں کی کہکشاں میں چمکتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اس صف میں موجود ریاض احمد خاں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے ایک انجنیئر ایک صنعت کار اور ایک سیاستداں کی حیثیت سے ا پنی شناخت بنائی۔ ان غیر معمولی حیدرآبادیوں میں آج کل ایک نام بہت زیادہ شہرت اختیار کرگیا ہے اور وہ ہے نیپر ول سٹی (City of Naper Ville) کے کونسل میان یا سٹی کونسل ممبر جناب اشفاق حسین سید جنہوں نے مختصر عرصہ میں عوامی خدمات کے کئی ایک ریکارڈ قائم کردئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جناب مسعود حسین اور عزیز فاطمہ کے گھر پیدا ہوئے اشفاق حسین سید حال ہی میں حیدرآباد تشریف لائے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کے لئے جب وہ دفتر سیاست پہنچے تب ہم نے اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کیلئے ان کا انٹرویو بھی لیا ۔ ہم ان کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ چہرہ پر باوقار مسکراہٹ نرم و شائستہ لب و لہجہ آنکھوں میں چمک اشفاق حسین سید میں پائی جانے والی غیر معمولی خوبیوں کی علامتیں ہیں ہم ان کے عزم و حوصلہ اور بلند ارادوں اور مستقبل کے منصوبوں سے کافی متاثر ہوئے ۔ ان کے ایک جملہ نے ہمیں خاص طور پر متاثر کیا کہ آج میں نیپر ول کا کونسل میان ہوں انشاء اللہ آئندہ 5 برسوں میں اس مقام پر پہنچونگا جس پر سارے ہندوستانی بالخصوص حیدرآبادی فخر کریں گے ۔ اشفاق حسین سید یقینا ایک متحرک شخصیت ہیں اور وہ بلا شبہ اپنی عوامی خدمات کے ذریعہ امریکہ میں ہندوستان کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش حیدرآباد میں ہوئی ۔ سعودی عرب میں بڑے ہوئے چونکہ ان کے والد محترم مسعود حسین سعودی آرامکو میں خدمات انجام دیا کرتے تھے ، ایسے میں آرامکو کے کیمپس میں بچپن گزرا ۔ حیدرآباد کے کاکتیہ ودیا نکیتن ہائی اسکول مہدی پٹنم سے اسکولی تعلیم اور پھر انوارالعلوم کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا اور وہیں سے گریجویشن کی تکمیل کی۔ دس سال قبل وہ دبئی سے امریکہ منتقل ہوئے اور اب چار سال بعد حیدرآباد آئے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمیشہ وہ ایک عام فرد کی حیثیت سے حیدرآباد آتے تھے لیکن ایک منتخبہ عوامی نمائندہ کے طور پر حیدرآباد کا اب دورہ کیا ۔ ان کے خیال میں حیدراباد آکر انہیں بہت فحر محسوس ہورہا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں اشفاق حسین سید نے بتایا کہ وہ امریکہ میں بھی حیدرآباد کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’’اکثر لوگ خاص طور پر سفید فام امریکی یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کا کس ملک اور کس شہر سے تعلق ہے ۔ تب میں فخر سے کہتا ہوں کہ حیدرآباد دکن سے میرا تعلق ہے‘‘۔ حیدرآباد کے بارے میں سوال پر اشفاق حسین سید جنہوں نے 13000 سے زائد ووٹوں سے City of Naper Ville سٹی کونسل کے انتخابات میں کامیابی ح اصل کی اور جنہیں نیپر ول کونسل کے پہلے ہندوستانی نژاد رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے کہاکہ حیدرآباد کی ترقی کو دیکھ کر وہ بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔ یہاں کا موسم بہت ہی پیارا ہے اور حیدرآباد کے لوگ بہت پیارے ہیں۔ مہمان نوازی میں حیدر آباد کا جواب نہیں، یہاں اپنے پن کا احساس آپ میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اشفاق حسین سید کے مطابق سیاسی شعبہ میں تعلیم یافتہ اور عوامی خدمت عوامی مفادات کے تحفظ کا جذبہ رکھنے والی شخصیتوں بالخصوص نوجوانوں کو داخل ہونا چاہئے ۔ سیاسی شعبہ میں اپنی شمولیت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اسکول کے زمانے سے ہی وہ سیاسی ، معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں شامل ہوا کرتے تھے ۔ ان کا ماننا تھا کہ سیاست کو بازو رکھئے اگر کوئی اچھا لیڈر ہو تو ہمیں اس کے ساتھ کام کرنا چاہئے جس سے ہم اپنی کمیونٹی کو سپورٹ کرسکتے ہیں ۔ ان کے مفادات کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کے بارے میں بتایا کہ نیپر ول پہنچا تو دیکھا کہ مسلم کمیونٹی سیاسی شعبہ میں بہت کم سرگرم ہے ۔ وہاں پر کئی لوگ انجنیئر، ڈاکٹرس بن رہے ہیں لیکن سیاستداں بننے میں کوئی مصروف نہیں ہے ، ایسے میں وہ پوچھتے تھے کہ بھئی ماشاء اللہ شکاگو میں نصف ملین مسلم مقیم ہیں مگر کوئی کانگریس میان نہیں ہے اور کوئی سیاستداں نہیں ہے ( اُس زمانے میں) مگر ان چار پانچ برسوں میں حیدر آبادی وہاں بہت سرگرم ہوگئے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں ’’مجھ میں ایک شوق ایک جذبہ تھا میں سیاست میں جاؤں تاکہ اپنی کمیونٹی اور انسانیت کی مدد کرسکوں۔ میرا یہی خیال ہے کہ اگر آپ ایک سٹی کونسل ممبر ہیں، میئر ہیں، نیسٹر ہیں تو آپ ہزاروں لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ تبدیلی کے نقیب بن سکتے ہیں۔ جناب اشفاق حسین سید ایک ڈیموکریٹ ہیں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیپر ولی کی آبادی 1.55 لاکھ ہے جبکہ وہاں ایک لاکھ رائے دہندے ہیں جن میں 80 فیصد سفید فام امریکی اور 20 فیصد جنوبی ایشیائی باشندے بشمول ہندو ، مسلم اور یہودی شامل ہیں ۔ وہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 10 ہزار ہے لیکن ان کے عوامی ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل سب نے ان کی سپورٹ کی خاص کر غیر مسلم رائے دہندوں نے انتخابی مہم سے لے کر فنڈز اکھٹا کرنے گھر گھر جاکر رائے عامہ ہموار کرنے میں غرض قدم قدم پر ان کی سپورٹ میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اشفاق حسین سید کے مطابق انہوں نے 8 برسوں تک زمینی سطح پر محنت کی ۔ کئی اداروں کے ساتھ کام کیا ، کئی اداروں کے بورڈ میں ہیں، عوام کو اچھی طرح پتہ ہے کہ وہ (اشفاق حسین سید) کام کے آدمی ہیں۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ Naper Ville پبلک لائبریری کا شمار امریکہ کی بہترین لائبریریز میں ہوتا ہے ۔ وہ اس کے بورڈ پریسیڈنٹ اور 5 سال کیلئے ٹرسٹی رہے۔ اس لائبریری کا بجٹ 18 ملین ڈالرس ہے اور 1.2 ملین لوگ ہر سال اس سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ نیپرول کا بجٹ 800 ملین ڈالر ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اشفاق حسین سید ایک معروف بنکر بھی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ روزنامہ سیاست کے بازو ٹائمس آف انڈیا گروپ کا ایک بینک تھا جہاں وہ اگزیکیٹیو کے طورپر خدمات انجام دیتے رہے پھر آئی سی آئی سی بینک میں سینئر آفیسر کی حیثیت سے کام کیا اور پھر متحدہ عرب امارات کی راس الخیمہ بینک میں سینئر مینجر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روزنامہ سیاست امریکہ میں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے خود ان کے والد روزنامہ سیاست کا آن لائین مطالعہ کرتے دوسروں کو شیئر کرتے امریکہ میں روزنامہ سیاست دوستوں ، رشتہ داروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے ۔ روزنامہ سیاست حیدرآبادی روایات اور تہذیب کی خوشبو بکھیرنے کا کام کرتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا اکہ نیپر ول میں چار مساجد ہیں اور اسلامک سنٹر آف نیپر ول دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔ 2010 میں 14 ایکر اراضی خرید کر یہ مسجد اور اسلامک سنٹر قائم کیا گیا ۔ ان کے خیال میں جو انسان مساجد سے قریب ہوتے ہیں، ان کی زندگی بہت اچھی رہتی ہے ۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں فیملی بالخصوص اہلیہ عائشہ ، عثمان باخطیب کے ا ہم کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ موجودہ حا لات میں مایوس اور ناامید ہونے کی ضرورت نہیں اور خاص طور پر والدین اپنے بچوں کی سوچ و فکر کو مثبت بنائیں، انہیں Motivate کریں۔