بیوی کے علاج کے لیے آمد ، لاک ڈاؤن سے شام جانے سے قاصر ، مالی مشکلات سے پریشان حال
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں شامی شہری پریشانی کا شکار ہے ۔ بیوی کے علاج کی خاطر ملک شام سے شہر حیدرآباد آنے والا یہ شخص ان دنوں سڑکوں پر مدد کا منتظر ہے ۔ بیوی اور اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ سڑک کے کنارے مدد کے لیے پکار رہا ہے ۔ لاک ڈاؤن کے سبب اپنے ملک روانگی میں حائل مشکلات نے اس شامی باشندے محمد فارس ابو یوسف کو پریشانیوں میں گھیر لیا ہے ۔ ایک طرف بیرونی پروازیں بند ہیں تو دوسری طرف یہاں حیدرآباد میں اس کا جینا مشکل ہوگیا ہے ۔ علاج کے لیے لائی ہوئی رقم ختم ہوچکی ہے اور اب جانے کا بھی کوئی انتظام نہیں ۔ ان حالات میں روزانہ کا گذر بسر بھی اس پر مشکل ہوگیا ۔ کسی سے کھلے عام مدد مانگنے میں اس شامی باشندے کی طرف اس کی غیرت اور دوسری طرف اس کی زبان اجازت نہیں دیتے ۔ ابو یوسف سوائے عربی زبان کے کوئی اور زبان سے واقف نہیں ۔ اپنے ہاتھ میں مدد کے لیے ایک پلے کارڈ تھامہ مدد کا منتظر ہے ۔ کبھی ایک علاقہ تو کسی دن دوسرے علاقہ میں بیوی بچوں کے ساتھ چلا جاتا ہے ۔ ایک ہاتھ میں پلے کارڈ اور دوسرے ہاتھ میں اس کی نونہال بیٹی کو لے کر شہر کی گلیوں میں مدد کا منتظر ہے ۔ یہ شامی شہری اس کی بیوی کے علاج کی غرض سے شام کے شہر دمشق سے حیدرآباد جاریہ سال ماہ فروری میں آیا تھا ۔ اور علاج مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے سے ماہ مارچ کے اواخر میں روانگی کا منصوبہ رکھتا تھا ۔ تاہم اس دوران لاک ڈاون نے اس شہری کو مزید پریشانی میں ڈال دیا ۔ شامی شہری محمد فارس ابو یوسف پیشہ سے ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہے ۔ جو فی الحال ٹولی چوکی پیراماونٹ علاقہ میں مسجد آمنہ کے قریب واقع ایک مکان میں مقیم ہے جو تنگ دست زندگی گذارنے پر مجبور ہے ۔ ابو یوسف نے لاک ڈاؤن کے سبب حیدرآباد میں پھنس جانے کے بعد ملک شام میں موجودہ اپنے رشتہ داروں سے مدد مانگی تھی اور وہاں سے ان کے رشتہ داروں نے رقم روانہ کی لیکن اب وہ بھی مزید مدد کے موقف میں نہیں ہیں ۔ ابو یوسف شہر میں مدد کا منتظر ہے اور ملک شام روانہ ہونے کیلئے بے صبری سے انتظار کررہا ہے ۔۔