حیدرآباد کی سڑکیں 3,000 سے زائد گڑھوں سے چھلنی

   

حیدرآباد ۔ 24 جولائی (سیاست نیوز) شہر میں گذشتہ چند دن سے متواتر بارش ہورہی ہے جس کی وجہ سے سڑکوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارش سے شہر کے کئی نشیبی علاقے زیرآب ہوکر رہ گئے اور سڑکوں پر گڑھے اور کھڈ پڑ گئے ہیں جس کی وجہ موٹر گاڑی والوں اور پیدل راہگیروں کیلئے خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ گذشتہ چار دن میں شہر میں ہوئی بارش سے حیدرآباد کی سڑکوں پر 3,900 سے زائد گڑھے پڑ گئے ہیں جو بہت خراب حالت میں ہیں جس کی وجہ موٹر گاڑی والوں کیلئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی جانب سے جلد ہی سڑکوں کے مرمتی کام شروع کئے جارہے ہیں، کارپوریشن کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ شہر میں موجود جملہ گڑھوں میں 2600 گڑھے مین روڈس پر ہیں اور باقی دیگر سڑکوں اور گلی، کوچوں میں ہیں۔ شہر میں گڑھوں سے بھری سڑکیں عوام کیلئے بہت مشکل اور دشواریوں کا باعث ہیں۔ بارش کے بعد سڑکوں کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ نہ صرف چندرائن گٹہ فلائی اوور کے قریب کی سڑک بہت خطرناک ہوگئی ہے بلکہ ملاپور، ناچارم، کواڑی گوڑہ، آرام گھر، مہدی پٹنم اور دیگر کئی مقامات پر بھی جہاں نئے فلائی اوورس زیرتعمیر ہیں، سڑکوں کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے۔ اہم لینس بشمول موسیٰ رام باغ، بیگم پیٹ، اندرا نگر، لنگرحوض، ملک پیٹ، سعیدآباد، چادرگھاٹ، بنڈلہ گوڑہ، فلک نما، کاروان، ضیاگوڑہ، عنبرپیٹ، پرانا پل، بہادرپورہ، کشن باغ اور دیگر کئی مقامات پر سڑکوں پر گڑھے اور کھڈ نظر آرہے ہیں۔ کمار نے مزید کہا کہ ’’اس ہفتہ شدید بارش کی وجہ شہر میں سڑکوں کی حالت خراب ہوگئی اور یہ خطرناک بن گئی ہیں۔ بارش سے سڑکیں کٹ گئی ہیں اور بلیک ٹاپنگ بہہ گیا ہے جس کی وجہ گڑھے ہوگئے ہیں۔ یہ بھی دیکھا جارہا ہیکہ شہر میں مختلف مقاصد جیسے ٹیلی کام کیبلس، ڈرینج پائپ لائن، واٹر پائپ لائن ڈالنے کیلئے کھودی جانے والی سڑکوں کو پھر ان کی اصلی حالت میں لانے میں تاخیر کی جارہی ہے جس کی وجہ خطرہ لاحق ہورہا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے دعوے کے مطابق بارش کے بعد شکایتوں کے وصول ہونے پر پیاچ ورک کیا جارہا ہے۔ نیز حال میں تلنگانہ ہائیکورٹ نے بھی حیدرآباد میں سڑکوں کی خراب حالت پر جی ایچ ایم سی اور ریاستی حکومت پر خفگی کا اظہار کیا اور سڑکوں کے مرمتی کام پر زون واری رپورٹس طلب کئے تھے۔