کرایوں میں 26% کا اضافہ ، ورک فرم ہوم کا نتیجہ ، ایک سروے میں انکشاف
حیدرآباد :گریٹر حیدرآباد کے حدود میں لگژری مکانات کے کرایوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ بالخصوص آئی ٹی کاریڈار کی حیثیت سے شہرت حاصل کرنے والے مادھا پور، ہائی ٹیک سٹی، گچی باؤلی اور دیگر علاقوں میں کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ کووڈ بحران کی وجہ سے سینکڑوں آئی ٹی کمپنیاں اپنے ملازمین کو ورک فرم ہوم کی اجازت دے رہیہیں۔ بھاری تنخواہیں حاصل کرنے والے آئی ٹی، بی پی او، کے پی او شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین، ٹیم لیڈرس، سی ای اوز، کارپوریٹ لگژری مکانات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پراپرٹی کنسلٹنٹ ادارہ انراک کی جانب سے کئے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان میں زیادہ تر افراد بھاری کرایہ ادا کرتے ہوئے وسیع مکانات میں قیام پذیر ہیں۔ ان علاقوں میں 2014ء کے مقابل فی الحال کرایوں میں 26% اضافہ ہوگیا ہے۔ وہی بنگلور میں 24%، چینائی، کولکتہ میں 19% کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کرایوں میں اضافہ کی اصل وجہ ورک فرم ہوم ہے جس کے سبب ملازمین گھروں تک محدود ہوگئے۔ گھروں کو آفس میں تبدیل کرنے کیلئے لگژری مکانات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے آئی ٹی کاریڈارس کاسموپولیٹن کلچر میں تبدیل ہوگئے۔ جہاں تعلیم، طب اور دیگر بنیادی سہولتیں آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان علاقوں میں کرایوں کے مکانات میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بڑے بڑے شہرت یافتہ کمپنیوں کے ہیڈآفس انہی علاقوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مستقبل میں انہی علاقوں میں مزید کمپنیاں قائم ہونے کے امکانات ہیں۔ چند آئی ٹی، بی پی او، کے پی او ادارے اپنے یہاں کام کرنے والے اہم ملازمین کو لگژری مکانات کی سہولتیں بھی فراہم کررہے ہیں۔