می سیوا سنٹرس پر درخواستیں داخل کرنے والوں کو دشواریاں، محکمہ جات میں تال میل کی کمی
حیدرآباد۔ سیلاب کے متاثرین کو امداد کی فراہمی کے سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور حکومت کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں 1.3 لاکھ متاثرین کا معاملہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے جنہوں نے می سیوا سنٹرس پر اپنے نام اور تفصیلات درج کرائی تھیں۔ حکومت نے ابتداء میں می سیوا سنٹرس پر آن لائن درخواستیں داخل کرنے کی ہدایت دی تاہم بعد میں کہا گیا کہ جی ایچ ایم سی کے عہدیدار متاثرین سے ان کے مکانات پر ملاقات کے بعد امداد کی رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع کردیں گے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ریوینو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ ابتداء میں متاثرین کو فی کس 10 ہزار روپئے بینک اکاؤنٹس میں جمع کئے گئے۔ می سیوا سنٹرس میں تقریباً 3.52 لاکھ درخواستیں داخل کی گئیں جن میں سے 2.26 لاکھ متاثرین کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کردی گئی۔ نومبر 16 تا 19 کے درمیان یہ درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔ متاثرین کو اس بات پر افسوس ہے کہ بلدی انتخابات کے بعد سیاسی جماعتوں نے بھی اس مسئلہ کو نظرانداز کردیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق میونسپل کارپوریشن نے 4.13 لاکھ خاندانوں کو فی کس 10 ہزار روپئے کی امداد حوالے کی ہے۔ می سیوا کے ریکارڈ اور عہدیداروں کے دعویٰ میں کافی تضاد پایا جاتا ہے اور ایک لاکھ 30 ہزار متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔ انتخابات کے پیش نظر امدادی تقسیم کے کام کو روک دیا گیا تھا۔ حکومت نے 7 ڈسمبر کے بعد رقم کی اجرائی کا وعدہ کیا لیکن بعد میں موقف تبدیل کرتے ہوئے می سیوا سنٹرس سے رجوع ہونے سے عوام کو روک دیا گیا۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے کہا کہ عہدیدار متاثرین کے گھر پہنچ کر نقصانات کا جائزہ لیں گے جس کے بعد امدادی رقم جاری کی جائے گی۔ کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ 8 اور 9 ڈسمبر کے درمیان 17 کروڑ 33 لاکھ روپئے جاری کئے گئے جبکہ 11 ڈسمبر تک 9 کروڑ 79 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی۔ 8 ڈسمبر سے لیکر آج تک 48.23 کروڑ جاری کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بلدی انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں نے متاثرین کو یقین دلایا تھا کہ انہیں نتائج کے بعد امدادی رقم کے لئے حکومت سے نمائندگی کریں گے لیکن نتائج کے بعد سیاسی قائدین نے متاثرین کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔
