حیدرآباد : /5 فبروری (سیاست نیوز) نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 3 نوجوان جن پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت گزشتہ سال اکٹوبر میں گرفتار کیا گیا تھا کیس کی تحقیقات حاصل کرلی ۔ محمد عبدالزاہد ، محمد سمیع الدین اور معاذ حسن فاروقی کو حیدرآباد کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے گرفتار دسہرہ تہوار سے عین قبل گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے مبینہ طور پر ہینڈ گرینڈس اور نقد رقم برآمد کئے تھے ۔ پولیس نے اس گرفتاری کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ 3 نوجوان بی جے پی اور سنگھ پریوار سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا تھا اور اس سلسلہ میں پاکستان کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے ہینڈ گرینیڈس بھی حاصل کئے تھے ۔ ان نوجوانوں کے خلاف انسداد غیرقانونی سرگرمیاں (UAPA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انہیں چیرلہ پلی جیل میں قید رکھا گیا ہے ۔ تحقیقات میں پولیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ لشکر طیبہ کے علاوہ پاکستان کی جاسوس ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی یہ نوجوان رابطے میں تھے اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد فرحت اللہ غوری ، صدیق بن عثمان اور عبدالمجید کی مدد حاصل کرتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔ حالانکہ ان نوجوانوں کو سخت دفعات کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا لیکن قومی سطح کی تحقیقات لازم ہونے کے نتیجہ میں اس کیس کی تحقیقات کو نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے حاصل کرتے ہوئے ایک تازہ مقدمہ درج کرلیا ہے ۔