حیدرآباد کے سیوریج نظام کو اپ گریڈ کرنے اقدامات

   

حیدرآباد۔19 مئی (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں سیوریج کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے ایچ ایم ڈبلیو ایس اور ایس بی کو ہدایت دی کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے امکانات تلاش کریں۔ کے ٹی آر کے جائزہ اجلاس میں واٹر بورڈ کے ایم ڈی ایم دانا کشور نے موجودہ ایس ٹی پیز کے کام کی وضاحت کی اور شہر کے مختلف حصوں میں تعمیر کی تجویز کی گئی نئی ایس ٹی پیز کے بارے میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن دی۔اس وقت گندگی کی نکاسی کے 772 ایم ایل ڈی (دس لاکھ لیٹر روزانہ) 25 ایس ٹی پی میں کام کیا جارہا ہے۔ پانی موسی ندی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس شہر میں ایک دن میں 1850 ملین لیٹر سیوریج پیدا ہوتا ہے۔ راما راؤ نے عہدیداروں سے جانچ پڑتال کیلئے کہا کہ کیا موجودہ ایس ٹی پیز میں نئی تعمیر کرنے زمین موجود ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ٹی پیز کے ذریعہ پانی کو پارکوں میں باغبانی اور صنعتوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واٹر بورڈ کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ او آر آر کی حدود میں فیکل سلج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایف ایس ٹی پی) کی تعمیر کے لئے اقدامات شروع کریں۔