حسین ساگر کو 8 گیٹس لگانے کا فیصلہ ، ڈیزائن تیار ، بہت جلد ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے
حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد کے مختلف مقامات کو سیلاب کی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے حسین ساگر کو 8 گیٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کا ڈیزائن تیار کرتے ہوئے سنٹرل ڈیزائن آرگنائزیشن نے محکمہ بلدی نظم و نسق کو حوالے کردیا ہے ۔ بہت جلد اس کے لیے ٹنڈرس طلب کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حسین ساگر کو گیٹس لگانے سے کئی علاقوں کو سیلاب کی صورتحال سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے ۔ کوکٹ پلی ، پکیٹ ، بنجارہ ہلز اور ملکاپور ، نالوں سے سیلاب کا پانی اور آلودہ پانی حسین ساگر میں جمع ہورہا ہے ۔ 0.9 ٹی ایم سی پانی کی گنجائش پر مشتمل ذخیرہ آب دھواں دھار بارش سے لبریز ہوجاتا ہے اور کئی علاقوں میں پانی پھیل جاتا ہے ۔ جس سے ہزاروں افراد کئی مشکلات اور دشواریوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔ فی الحال حسین ساگر کو کوئی گیٹس نہیں ہے ۔ پانی بہنے کا الگ ہی نظام ہے جیسے ہی حسین ساگر میں پانی لبریز ہوجاتا ہے ۔ خود بہ خود پانی نچلے حصہ بہنا شروع ہوجاتا ہے ۔ شدید بارش کے موقع پر پانی نچلے حصہ میں چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے ۔ جس سے کئی علاقوں میں پانی بہہ کر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کا جائزہ لینے کے لیے محکمہ آبرسانی کے چیف انجینئر مرلیدھر کی صدارت میں حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ کمیٹی نے تمام حالت کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کردی ہے ۔ موجودہ چبوترہ کے پاس ہی ایک پل تعمیر کرتے ہوئے اس کو 8 گیٹس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ 38,560 کیوسکس پانی نچلے حصہ میں چھوڑنے کا ایک ڈیزائن تیار کیا گیا ہے ۔ حکومت نے رپورٹ کو منظوری دیتے ہوئے ڈیزائن کی تیاری کی ذمہ داری سنٹرل ڈیزائن آرگنائزیشن کو سونپی تھی ۔ اس ادارے نے ڈیزائن تیار کر کے اس کا نمونہ محکمہ بلدی نظم و نسق کو پیش کردیا ہے ۔ گیٹس نصب کر کے سیلاب کا پانی فوری نچلے حصہ میں چھوڑا جاتا ہے تو کئی علاقوں کو سیلاب کی صورتحال سے بچانے میں مدد ملنے کا ماہرین نے دعویٰ کیا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بہت جلد پل کی تعمیر اور گیٹس کی تنصیب کے لیے ٹنڈرس طلب کرنے کا امکان ہے ۔ گیٹس کی تعمیرات کا آغاز کرنے پر آئندہ دو یا تین ماہ تک ٹینک بینڈ پر گاڑیوں کی آمد و رفت روکنے کا امکان ہے ۔ گیٹس کے ذریعہ 38 ہزار کیوسکس پانی ایک ساتھ جاری کرنے سے موجودہ نالوں کو کوئی خطرہ نہ ہونے کی عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے ۔ ضرورت پڑنے پر نالوں کی مرمت بھی کی جاسکتی ہے ۔۔
