آوٹر رنگ روڈ کے دیہی علاقوں میں پانی کی سربراہی کیلئے کاموں کا سنگ بنیاد ، کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ ملک کے ہر شہر کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے ۔ لیکن شہر حیدرآباد ایک ایسا واحد شہر ہے جس کے کئی مثبت پہلو ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کوئی بھی پراجکٹ کے لیے ڈیزائن تیار کیا جارہا ہے تو 50 سال کے مستقبل کی حکمت عملی کو پیش نظر رکھا جارہا ہے ۔ منی کنڈہ الکاپور ٹاون شپ میں او آر آر فیز II میں پینے کے پانی کی سربراہی کے کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ملک کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ تیزی سے حیدرآباد ترقی کررہا ہے ۔ شہر کے اطراف و اکناف کے بلدیات کو حیدرآباد میں ضم کرلیا گیا ہے ۔ کارپوریشن میں ضم ہونے والے تمام دیہی علاقوں کے عوام کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ آوٹر رنگ روڈ کے حدود میں شامل تمام گاوں کو حیدرآباد کا حصہ تصور کیا جارہا ہے اور ان دیہی علاقوں کو 1200 کروڑ روپئے کے مصارف سے پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں میں 6 ہزار کروڑ روپئے کے اخراجات کئے جارہے ہیں ۔ کالیشورم پراجکٹ کے ذخیرہ آب سے بھی پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کنڈہ پوچماں ساگر سے عثمان ساگر ( گنڈی پیٹ ) کو بھرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ تلنگانہ کی اسکیمات پر ملک بھر میں تقلید ہورہی ہے ۔ ریتو بندھو اسکیم کا تلنگانہ میں آغاز ہونے کے بعد ملک کی دوسری 11 ریاستیں اس پر عمل کررہی ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت کی تشکیل کے بعد سب سے پہلے برقی مسائل پر قابو پایا گیا ۔ تمام شعبوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کرنے والی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے ۔ ماضی میں عوامی منتخب نمائندے اور عہدیدار دیہی علاقوں کو پہونچتے تو ان کا خالی گھڑوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے خیر مقدم کیا جاتا تھا ۔ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے دفتر خیریت آباد میں خواتین کی جانب سے خالی گھڑوں سے احتجاج کیا جاتا تھا ۔ مگر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد یہ مسئلہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔۔ ن