حیدرآباد کے مضافات میں قدرتی وسائل کی لوٹ مار

   

بی آر ایس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا دورہ، جی او 111 نظرانداز کرنے ڈاکٹر شراون کا الزام
حیدرآباد۔ 11 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے رشتہ داروں کے بے نامی کے ذریعہ قدرتی وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔ جی او 111 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی کرشنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔ داسوجو شراون نے کہا کہ بی آر ایس کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی نے آج صبح حیدرآباد کے مضافاتی علاقے کوکہ پیٹ کے قریب نیو پولیس میں واقع بھاگیہ لکشمی منرلس کرشنگ کا دورہ کرکے معائنہ کیا۔ کمیٹی کے دورے کا مقصد حمایت ساگر کے آب گیر علاقہ میں جاری مبینہ غیر قانونی مائننگ اور کرشنگ سرگرمیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کرشنگ یونٹ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بھانجے رمیش ریڈی کے قریبی ساتھیوں سے متعلق ہے۔ داسوجو شراون نے کہا کہ بھاگیہ لکشمی منرلس کرشنگ یونٹ کو چیف منسٹر کی مبینہ پشت پناہی کے علاوہ کسی بھی متعلقہ محکمہ سے باقاعدہ اجازت حاصل نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہاں بڑے پیمانے پر کرشننگ سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس یونٹ سے ہر ماہ تقریباً 3 سے 4 کروڑ روپے کی آمدنی ہو رہی ہے۔ جو مبینہ طور پر چیف منسٹر کے رشتہ داروں کے جیبوں میں جارہی ہے۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے کہا کہ جی او 111 کے دائرے میں عام شہریوں کو چھوٹا سامکان بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی لیکن اس علاقے میں 17 ایکڑ اراضی پر بڑے پیمانے پر کرشنگ ہونے کے باوجود حکام کیوں خاموش ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکاری مشنری حکمرانوں کے ساتھ ملی بھگت کررہی ہے۔ داسوجو شراون نے کہا کہ تین جدید کرشر مشینوں کے ذریعہ پہاڑی ٹیلوں کو مسمار کیا جارہا ہے جس سے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اتنی بڑی ماحولیاتی تباہی کے باوجود ضلع کلکٹر، پولیوشن کنٹرول بورڈاور مائننگ ڈپارٹمنٹ کیوں خاموش ہیں۔ 2