روزانہ 150 افراد دواخانہ سے رجوع ، خواتین اور بچوں کا تنہا گھومنا خطرہ سے خالی نہیں
حیدرآباد: حیدرآباد میں کئی برسوں کے بعد آوارہ کتوں کی بہتات نے عوام کیلئے مسائل کھڑے کردیئے ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں آوارہ کتوںکی جانب سے تنہا جانے والے افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں آوارہ کتوں کی کثرت کے نتیجہ میں عوام بالخصوص خواتین میں خوف و دہشت کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں کئی افراد کتوں کے حملہ میں زخمی ہوئے جبکہ بہادر پورہ کے اسد بابا نگر میں ایک 8 سالہ لڑکا کتوں کے حملہ میں ہلاک ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق لڑکا ہفتہ کی شام اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ کھلے مقام پر موجود چند آوارہ کتوں نے اسے دبوچ لیا ۔ ذرائع کے مطابق لڑکے کو شدید زخم آئے اور وہ برسر موقع فوت ہوگیا۔ لڑکے کے والدین تلاش کرتے ہوئے کھلے مقام پر پہنچے تو انہوں نے اپنے بچے کو مردہ پایا۔ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ دیگر بچے کس طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے اس معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے جبکہ مقامی افراد کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حکام نے آوارہ کتوں کے خلاف مہم شروع کی ہے ۔ جانوروں کے تحفظ سے متعلق جہد کاروں نے الزام عائد کیا کہ حکومت شہر میں کتوں کی آبادی میں اضافہ کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق روزانہ تقریباً 40 ایسی شکایتیں موصول ہوتی ہیں جن میں آوارہ کتوںکے حملہ میں شہریوں کے زخمی ہونے کا معاملہ منظر عام پر آتا ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں آوارہ کتوں کو پکڑنے کیلئے باقاعدہ علحدہ شعبہ موجود ہے لیکن اس شعبہ کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر میں دو لاکھ سے زائد آوارہ کتے ہیں جن کی ٹیکہ اندازی نہیں کی گئی۔ سرکاری دواخانہ کو روزانہ 150 افراد کتوں کے کاٹنے سے زخمی رجوع ہوتے ہیں۔ ترکاری منڈیوں ، سلاٹر ہاؤزس اور مصروف مارکٹ علاقوں کے اطراف آوارہ کتوں کی بحتاط دیکھی گئی ہے ۔ چارمینار ، امیر پیٹ ، افضل گنج ، مہدی پٹنم ، کشائی گوڑہ ، ایس آر نگر ، مشیرآباد ، ٹولی چوکی ، عابڈس اور دیگر علاقوں میں کتوں کے کاٹنے کے زیادہ واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ جنوری تا مئی کتوں کی افزائش کا موسم ہوتا ہے۔ بہادر پورہ میں 8 سالہ لڑکے کی موت کے باوجود بلدی حکام نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے۔ پرانے شہر کے چارمینار زون میں ایک اندازہ کے مطابق ایک لاکھ آوارہ کتے ہیں ۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ عوام کی ناراضگی کے باوجود بھی بلدیہ کا عملہ خواب غفلت کا شکار ہے جس کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں کا گھروں سے تنہا باہر نکلنا خطرہ سے خالی نہیں ہوگا۔