حیدرآباد کے گاندھی ہاسپٹل میں 17 سالہ قدیم فائر سیفٹی نظام

,

   

آگ پر قابو پانے کے کئی آلات ناکارہ تو کئی چوری ، خطرات کو ٹالنے خصوصی توجہ درکار
حیدرآباد :۔ ریاست تلنگانہ میں کوویڈ 19 کے نوڈل سنٹر کی طرح خدمات انجام دینے والے سکندرآباد کے گاندھی ہاسپٹل میں موجود فائر سیفٹی نظام میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں ۔ ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر اتفاق سے ہاسپٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ گراونڈ پلس 8 منزل پر مشتمل اس ہاسپٹل میں اگر اتفاقی طور پر آگ لگ جاتی ہے تو وارڈس میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ان کا علاج کرنے والے طبی عملے کو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہیں آگ سے ہی گذر کر جانا پڑے گا ۔ تقریبا 17 سال قبل قائم کیا گیا ۔ فائر سیفٹی نظام پوری طرح کارکرد نہیں ہے ۔ آگ پر قابو پانے والے آلات میں چند آلات ناکارہ ہیں تو چند آلات کی چوری ہوگئی ہے ۔ گذشتہ سال 6 اگست کو گاندھی ہاسپٹل کے پیڈیا ٹرکس بچوں کے سرجری سے متعلق شعبہ میں آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم کروڑہا روپئے مالیت کے طبی آلات جل کر خاکستر ہوگئے ۔ گذشتہ 2 سال کے دوران تقریبا 15 چھوٹے موٹے آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ۔ مسلسل پیش آئے حادثات کے تعلق سے حکومت کو توجہ دلانے کے باوجود حکومت نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ گاندھی ہاسپٹل میں فی الحال 1000 سے زائد کورونا کے متاثرین زیر علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ ہاسپٹل کے مختلف شعبوں میں 2 ہزار سے زائد عملہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ حال ہی میں گجرات کے احمد آباد اور آندھرا پردیش کے وجئے واڑہ کے ہاسپٹلس میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے جس میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصانات بھی پیش آئے ہیں ۔ ان حادثات سے سبق حاصل کرتے ہوئے گاندھی ہاسپٹل کے فائر سیفٹی نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انجینئرنگ شعبہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 8 منزلہ اس عمارت کے ڈیزائن میں خامیاں پائی جاتی ہیں ۔ آگ لگنے یا کوئی اور آفات سماوی کا واقعہ پیش آنے پر عمارت کے مختلف جگہوں سے باہر آنے کے لیے سیڑھیوں کا انتظام ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن عمارت کو چاروں طرف سے بند رکھا گیا ۔ اس ہاسپٹل میں ریمپ کے ساتھ تین جگہ سے باہر نکلنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی ہیں ۔ تاہم یہ تمام سیڑھیاں عمارت کے اندر ہے اگر اتفاقی طور پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو 10 فیصد افراد کی بھی جان بچنے کی امید نہیں ہے ۔ آوٹ پیشنٹ اور ایمرجنسی شعبوں کے لیے پچھلی طرف سے سیڑھیاں تعمیر کی گئی ہیں ۔ تاہم اس کے راستوں کو ہمیشہ بند رکھا جاتا ہے ۔ سال 2003 میں گاندھی ہاسپٹل تعمیر کیا گیا جس کا فائر سیفٹی نظام آج تک چل رہا ہے ۔ کئی آلات ناکارہ ہیں تو کئی چوری ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے فائر سیفٹی نظام پوری طرح کارکرد نہیں ہے ۔ ہاسپٹل کے انتظامیہ کی جانب سے اس کو درست کرنے کے لیے کئی مرتبہ تحریری نمائندگیاں بھی کی گئی ہیں ۔ جس کی فائل حکومت کے پاس زیر التواء ہے ۔ گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ راجہ راؤ نے بتایا کہ ہاسپٹل میں خصوصی فائر سیفٹی نظام کے قیام پر حکومت کی جانب سے سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ اس مسئلہ پر حکومت کو کئی مکتوبات بھی روانہ کئے گئے ہیں ۔ عصری فائر سیفٹی سسٹم قائم کرنے کی وہ ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں ۔۔