حیدرآباد کے گنجان مسلم علاقوں میں بڑے پیمانہ پر صفائی کی مہم ضروری

   

مکینوں کو احتیاط کرنے کی ضرورت ، سماجی فاصلہ کے ساتھ افراد خاندان کی حفاظت کو یقینی بنائیں
حیدرآباد۔یکم۔جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود مسلم علاقوں کی صفائی اور انہیں کورونا وائرس سے پاک کرنے کیلئے چلائی جانے والی مہم کے دوران مکمل طورپر پاک کرنا ممکن نہیں ہے!شہر حیدرآباد کے کئی مسلم علاقوں میں جہاں گنجان آبادیاں ہیں وہاں صفائی کو یقینی بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر مہم کی ضرورت ہے اور جب تک احتیاط کے ساتھ مکمل صفائی کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک ان علاقوں کو محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ شہر کی گنجان آبادیوں میں جہاں چھوٹے چھوٹے مکانات ہیں ان علاقوں میں صفائی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے اور علاقے چھوٹے ہیں ان علاقو ںمیں صفائی اور جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ انتہائی مشکل امر ہے اسی لئے ان علاقوں کے مکینوں کوجہاں تک ہوسکے احتیاط کے علاوہ اپنے طور پر صفائی کے انتظامات کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان اقدامات کے تحت محلہ جات ‘ بازاروں اور سڑکوں پر جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کو یقینی بنایا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ کہا جانے لگا ہے کہ عوام جو اپنے گھروں سے باہر نکل رہے ہیں انہیں باہر کی کسی شئے کو چھونے سے گریز کرنا چاہئے اور جب تک باہر کی چیزوں کو ہاتھ لگانے سے گریز کیا جاتا رہے گا اس وقت تک محفوظ رہا جاسکتا ہے کیونکہ کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کون ہے اور وہ کہاں ہاتھ لگاتے ہوئے کس جگہ کو متاثر کیا ہوا ہے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے اور متاثرہ جگہ کو ہاتھ لگانے کے بعد اگر کوئی متاثر ہوتا ہے تو اس کے بنیادی مریض کا پتہ چلنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ریاستی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے معاشرتی پھیلاؤ کی تصدیق سے تاحال انکار کیا جا رہاہے لیکن ماہرین کا کہناہے کہ نہ صرف ہندستان بلکہ شہر حیدرآباد اور ریاست تلنگانہ میں معاشرتی پھیلاؤ کا آغاز ہوچکا ہے جو کہ کسی کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ شہر حیدرآباد کے کئی بازاروں اور سڑکوں پر پائے جانے والے ہجوم کے سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پرہجوم ماحول میں اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کون کورونا وائرس سے متاثر ہے اور اس سے کس طرح سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جا رہاہے لیکن گنجان آبادی والے علاقو ںمیں اس کام کو مکمل کرنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے اسی لئے شہریوں کو اپنے طور پر احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔حکومت تلنگانہ اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے حالات بہتر ہونے کے امکانات نہیں ہیں بلکہ جب تک عوام اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کی حفاظت اور اپنے افراد خاندان کی حفاظت کو یقینی نہیں بناتے اس وقت تک کورونا وائرس سے بچاؤ ممکن نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد کی گنجان آبادیوں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کے امکان کم ہونے اور جگہ کی تنگی کے سبب کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہوتا جا رہاہے۔