حیدرآباد اس دور سے میڈیکل ہب

   

حیدرآباد :۔ شہر حیدرآباد تاریخی ورثہ کا شہر ہی نہیں بلکہ شہر سابق میں میڈیکل ہب کی شناخت بھی رکھتا ہے ۔ عمارتوں کو دور آصفیہ میں بس دیدہ زیب کے لیے ہی تعمیر نہیں کیا گیا بلکہ چند عمارتیں محض عوامی خدمات اور بھلائی کے لیے ہی تعمیر کی گئیں تھیں ۔ آج دنیا بھر میں کورونا ٹیکہ تیار کرنے کا سہرہ جہاں ہندوستان اور حیدرآباد کو پہونچا تو اس میں حیدرآبادی تاریخ کا بہت بڑا داخل ہے چونکہ شاید اس مٹی کی تاثیر ہے کہ وہ اپنی سابقہ شناخت کو منوا رہی ہے ۔ تقریبا 150 سال قبل شہر حیدرآباد میں مختلف وبائی اور دیگر امراض کے ٹیکہ تیار کئے جاتے تھے ۔ آج چونکہ قومی یوم سائنس ہے اس وجہ سے شہریوں کو شہر کی تاریخ اور حکمرانوں کی خدمات سے واقف کروانا ضروری سمجھا گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے وجود میں آنے کے چند عرصہ بعد ہی اس سرزمین پر دارالشفاء یونانی ہاسپٹل کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس دو منزلہ عمارت میں ہلاکت خیز موذی امراض کا علاج کیا جاتا تھا ۔ اور حقیقت کے تاریخی شواہد پائے جاتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں شہریوں اور نئی نسل کے لیے یہ بات باعث معمہ ہوگی کہ سر رونالڈ روس ملیریا اور پیراسائیڈ کے متعلق تحقیق اور تجربہ بھی حیدرآباد ہی میں سر انجام پائے ۔ اس وقت حیدرآباد کو میڈیکل ہب کی شناخت حاصل تھی اور اس کے کئی ایک شواہد موجود ہیں ۔ گذشتہ صدی ہلاکت خیز موزی و وبائی امراض جیسے پلیگ ، کلارا جیسے بیماریاں 1911 میں کلارا کے سبب 5 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایسی سال پلیگ سے 15 ہزار شہریوں نے اپنی جان گنوائی ۔۔
شعبہ صحت کو اولین اہمیت
پہلے سالار جنگ نے اصلاحات کے نام پر نظام حیدرآباد کے دور میں طبی شعبہ کو قائم کیا ۔ جس سے عوام کی صحت پر توجہ دینے کے اقدامات کئے گئے اور عوامی صحت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے نارائن گوڑہ میں انسٹی ٹیوٹ آف پرونیٹو میڈیسن ( آئی پی ایم ) قائم کیا گیا ۔ 6 ویں نظام میر محبوب علی خاں کے دور میں پہلے سالار جنگ میر تراب علی خاں کی نگرانی میں 1886 میں نظام ہیلت ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ جو موجودہ آئی پی ایم کی عمارت میں قائم تھا ۔ اسی عمارت کو تحقیق کے لیے مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ 1870 میں پلیگ پر قابو پانے کے اقدامات کا آغاز بھی اسی عمارت سے ہوا اور اس کے ساتھ ٹیکہ کی تقسیم کے اقدامات کا بھی آغاز کیا گیا ۔ 1904 میں سنٹرل پبلک ہیلت لیبارٹری کی قیادت میں غذا پینے کا پانی شفافیت کی جانچ بھی شروع کی گئی ۔ 6 سال بعد اسی احاطہ میں اسمال ہاکس ٹیکہ کی تیاری کا آغاز ہوا ۔ پلیگ و دیگر جان لیوا بیماریوں پر تحقیق کا آغاز کرنے کے بعد ویکسین تیاری کے عمل کو شروع کیا گیا ۔ اور اس کے لیے نظام ہیلت ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے احاطہ میں موجود ایگزامنر دفتر کو منتقل کیا گیا جس کے ساتھ ہی نارائن گوڑہ میں نظام ہیلت ڈپارٹمنٹ میں وبائی امراض پر تحقیق نے ضرور پکڑ لیا ۔