حیدرآباد شہر کے تاریخی دیوڑھیوں اور حویلیوں کی آہک پاشی کب ہوگی

   

آثار قدیمہ تباہ و بربادی کا شکار، عثمانیہ دواخانہ کی طرز پر دیگر عمارتیں بھی ندارد

حیدرآباد۔5 ستمبر (سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہر حیدرآباد میں کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اختیار کردہ پالیسی شہر کی تاریخی اہمیت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔حکومت نے صرف دواخانہ عثمانیہ کی تزئین و آہک پاشی کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار نہیں کی ہے بلکہ شہر حیدرآباد کی کئی قدیم دیوڑھی اور حویلیوں کے بھی منہدم ہونے کا انتظار کیا جا رہاہے تاکہ اس کا راست فائدہ ان لوگوں کو ہوسکے جو ان تاریخی عمارتوں اور جائیدادوں کو خرید کر انہیں منہدم نہیں کرپائے تھے اور سابقہ حکومتوں کی جانب سے ان کے تحفظ کے نام پر کم از کم ان کو عوامی تفریح و سیاحت سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے لیکن اب ان عمارتوں کے منہدم ہونے کا انتظارکیا جا رہاہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے ان عمارتوں کے کی آہک پاشی یا انہیں محفوظ کرنے کی کوئی حکمت عملی یا منصوبہ بندی نہیں ہے ۔پرانے شہر کے علاقہ شاہ گنج میں اقبال الدولہ کی دیوڑھی بھی ایک درج فہرست آثار قدیمہ میں شمار کی جاتی ہے اور اس دیوڑھی کے کئی حصہ منہدم ہونے لگے ہیں اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے اس دیوڑھی کو مخدوش عمارتو ںکی فہرست میں شامل کیا گیا ہے لیکن اس کی حفاظت یا آہک پاشی کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ شاہ گنج سے فتح دروازہ کی سڑک سے گذرنے والے راہگیروں کے لئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔اسی طرح شاہ گنج کے علاقہ میں ہی دیوڑھی خورشید جاہ موجود ہے جہاں حسینی علم گرلز جونئیر ‘ ڈگری اور پی جی کالج چلایا جاتا ہے اس دیوڑھی کی قدیم عمارت کے تحفظ کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔شہر حیدرآباد میں ایسی کئی جائیدادیں موجود ہیں جو آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل ہوتے ہوئے بھی سرکاری توجہ سے محروم ہیں اور یہ بات حقیقت ہے کہ ان تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے بغیر ریاستی حکومت کی جانب سے پرانے شہر کو استنبول بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا ۔پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں عہدیدارو ںکا استدلال ہے کہ ان کے پاس ان عمارتو ںکے تحفظ کے لئے بجٹ موجود نہیں ہے اور علاوہ ازیں اگر ان عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں سیاسی مداخلت کا سامناکرنا پڑتا ہے اسی لئے وہ ان امور کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پرانے شہر کی ترقی کیلئے ان عمارتوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔M