جی ایچ ایم سی حدود میں بستی دواخانوں کی تعداد 350 ہوجائے گی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان میں صحت عامہ کے شعبہ کو بہتر سے بہتر بنانے کے بارے میں مرکزی و ریاستی حکومتیں دعوے تو بہت کرتی ہیں لیکن عملی اقدامات کے معاملہ میں اقدامات صفر ہوتے ہیں ۔ سیاست داں اور حکومتیں شائد عوام کو بے وقوف سمجھتی ہیں یا پھر عوام میں اپنے حقوق حاصل کرنے کا جذبہ نہیں پایا جاتا ۔ بہر حال دہلی میں اروند کجریوال کی حکومت نے محلہ کلینکس ( بستی دواخانوں ) کا جال پھیلاتے ہوئے دیگر ریاستوں کی حکومتوں کو بھی دہلی تقلید پر مجبور کردیا ۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے جولائی 2015 میں پہلی مرتبہ کمیونٹی کلینکس قائم کیے جس سے دوسری ریاستوں میں بھی اسی طرح کے کلینکس قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کی قومی و بین الاقوامی سطح پر ستائش کی جانے لگی ۔ نیتی آیوگ ( سابقہ نام قومی منصوبہ بندی کمیشن ) بھی محلہ کلینکس کی ستائش کی ۔ نیتی آیوگ نے تو سارے ملک میں دہلی کی طرز پر محلہ کلینکس کا جال پھیلانے کی سفارش کی تاکہ سماج کے غریب طبقات کو فائدہ حاصل ہو ۔ دہلی کے بعد کیرالا اور تلنگانہ کی حکومتوں نے بستی دواخانے یا محلہ کلینکس قائم کرنے کا آغاز کیا جس سے عوام کو بہت زیادہ فائدہ ہونے لگا ۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان کا پہلا محلہ کلینک یا بستی دواخانہ 19 جولائی 2015 کو مغربی دہلی کے پیرا گڈی میں کھولا گیا ۔ جہاں دہلی کا بہت بڑا سلم علاقہ یا گندہ بستی پائی جاتی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ دہلی کی جملہ آبادی 16 ملین نفوس پر مشتمل ہے جن میں 1.8 ملین یعنی 18 لاکھ گندہ بستیوں میں رہتے ہیں ۔ دہلی حکومت نے 1000 محلہ کلینکس کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ اپنے ہدف کی تکمیل کے لیے تیزی سے پیشرفت کررہی ہے ۔ ان محلہ کلینکس میں 100 اقسام کی اہم ادویات دی جاتی ہے اور 200 ایسے طبی معائنے کیے جاتے ہیں جن پر باہر لیابس میں ہزاروں روپئے خرچ کرنے پڑتے ہیں ۔ بہر حال دہلی کے ان بستی دواخانوں سے متاثر ہو کر 6 اپریل کو حکومت تلنگانہ نے عظیم تر مجلس بلدیہ حیدرآباد اور مرکز کے نیشنل ہیلتھ مشن کے تعاون و اشتراک سے بستی دواخانہ قائم کیا اور اس کا افتتاح عمل میں لایا ۔ اب ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان بستی دواخانوں میں اوسطاً 57 مریض یومیہ رجوع ہوتے ہیں اور بعض میں ان مریضوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے جس سے سرکاری ہاسپٹلوں کے بوجھ میں کمی آرہی ہے ۔ ریاستی حکومت نے صرف حیدرآباد میں پچھلے 3 دن کے دوران 43 نئے بستی دواحانوں یا محلہ کلینکس کو تیار کر کے ان کے اختتام کا منصوبہ بنایا تھا ۔ مجلس بلدیہ حیدرآباد شہر کے ہر ڈیویژن میں ایک بستی دواخانہ قائم کررہی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ پہلے ہی سے یہاں 123 بستی دواخانہ کام کررہے ہیں ۔ لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے مزید 227 بستی دواخانوں کے قیام کو منظوری دی ہے اس طرح جی ایچ ایم سی کے حدود میں بستی دواخانوں کی تعداد 350 ہوجائے گی اور یہ نئے بستی دواخانے آئندہ 3 ماہ میں کھولے جائیں گے ۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بعض مندروں کے ذمہ داروں نے ڈسپنسریوں کے قیام کے لیے عمارتیں مفت دینے کی پیشکش کی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ فی الوقت حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل میں جی ایچ ایم سی حدود کے تحت 123 دواخانے کام کررہے ہیں ۔۔