حیڈرا کی کارروائیوں پر روک لگانے سے تلنگانہ ہائیکورٹ کا انکار

   

انہدام سے قبل قانون کی پابندی کے بارے میں استفسار
حیدرآباد 25 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے حیدرآباد ڈیزاسٹر ریسپانس اینڈ اسسیٹس مانیٹرنگ اینڈ پروٹیکشن ایجنسی (حیڈرا) کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کی انہدامی کارروائیوں پر روک لگانے سے انکار کیا ہے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس جے سرینواس راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران عبوری احکامات جاری کرنے سے انکار کیا۔ تالابوں اور جھیلوں کے تحفظ کے لئے حیڈرا کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ پرجا شانتی پارٹی کے صدر کے اے پال نے مفاد عامہ کی درخواست کے تحت شخصی طور پر عدالت میں پیش ہوتے ہوئے اپنا موقف رکھا۔ چیف جسٹس سے درخواست کی گئی کہ کم از کم 10 دن کے لئے حیڈرا کو انہدامی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دی جائے۔ خاص طور پر موسی ریور کے علاقہ میں انہدامی کارروائیوں پر روک لگائی جائے۔ درخواست گذار نے الزام عائد کیاکہ حیڈرا موسیٰ ندی کے اطراف کے غریبوں کو کسی پیشگی نوٹس کے بغیر نشانہ بنارہا ہے۔ اُنھوں نے حیدرآباد اور اُس کے اطراف حالیہ عرصہ میں 462 عمارتوں کے انہدام سے واقف کرایا۔ چیف جسٹس نے 30 منٹ تک کے اے پال کے دلائل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب عدالت نے درخواست گذار کی سماعت سے اتفاق کیا ہے تو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل اور حیڈرا کے اسٹانڈنگ کونسل کی ذمہ داری ہے کہ جواب دیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیاکہ آیا انہدامی کارروائیوں سے قبل قانون کے مطابق مالکین کو نوٹس جاری کی جارہی ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عمران خان نے بتایا کہ حکومت قواعد کی مکمل پابندی کررہی ہے۔ حیڈرا کے اسٹانڈنگ کونسل رویندر ریڈی نے بتایا کہ موسی ریور کے اطراف غریبوں کا ایک بھی مکان منہدم نہیں کیا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اریگیشن اور ریونیو ڈپارٹمنٹس کی جانب سے سروے کرتے ہوئے مکانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جن کے مکانات ندی کے حدود میں ہیں اُنھیں ڈبل بیڈ روم مکانات بطور معاوضہ فراہم کئے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سماعت کے بعد کہاکہ اِس مرحلہ پر عبوری احکامات جاری نہیں کئے جائیں گے۔ 1