حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے ایک نئے آرڈیننس کے تحت حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ ریگولیٹری اتھاریٹی (حیڈرا) کو زیادہ اختیارات دینے کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی ایک مفاد عامہ درخواست پر ریاستی حکومت کو نوٹسیں جاری کئے ہیں۔ عدالت کی ہدایت میں حیڈرا کے اختیارات میں اضافہ پر حکومت سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ جمعہ کو چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس جے سرینواس راؤ پر مشتمل ایک ڈیویژن بنچ نے چیف سکریٹری، سکریٹری آف گورنمنٹ لیگل افیرس، لیجسلیٹیو افیرس اینڈ جسٹس لا ڈپارٹمنٹ اور پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق کو آرڈیننس 4/2024 کے مضمرات پر تین ہفتوں کے اندر ان کے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی، جس سے حیدرآباد میں اربن گوررننس اینڈ پبلک اسیٹ پروٹیکشن میں حیڈرا کے رول میں اضافہ ہوتا ہے۔
مفادعامہ درخواست کے درخواست گذار بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی منچی ریڈی پرشانت کمار ریڈی نے آرڈیننس 4 of 2024 کی عبوری معطلی کی درخواست کی ہے جو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) ایکٹ 1955ء میں ترمیم کرنا ہے۔ اس ترمیم کو تلنگانہ گزیٹ میں شائع کیا گیا ہے اور اس کے ذریعہ جھیلوں، نالوں، سڑکوں، کھلی جگہوں اور پارکس کے معاملہ میں حیڈرا کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت حیڈرا کو وہ اختیارات دیئے گئے ہیں جو پہلے جی ایچ ایم سی کمشنر کو حاصل تھے۔ اس طرح حیڈرا کو حیدرآباد میں غیرقانونی قبضوں اور غیرمجاز تعمیرات کے خلاف راست کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔