ح10 حاملہ نرسیس کا کورونا سے ڈٹ کر مقابلہ

   

گاندھی ہاسپٹل میں جوکھم کی پرواہ کے بغیر ڈیوٹی جاری،کوویڈ کے مریضوں کی خدمت کے جذبہ سے سرشار نرسیس کی خدمات کی ستائش
حیدرآباد :۔ حیدرآباد کے ایک اہم نوڈل کوویڈ کیر سنٹر ، گاندھی ہاسپٹل میں کوویڈ کے مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے کئی نرسیس نہ صرف اپنی زندگی کو جوکھم میں ڈال کر مریضوں کی خدمت انجام دے رہی ہیں بلکہ ان کے ہونے والے بچوں کی زندگیوں کو بھی جوکھم میں ڈال رہی ہیں ۔ دوسروں کی تنقیدوں کی پرواہ کیے بغیر اور ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے انہیں دئیے جانے والے انتباہ کو خاطر میں لائے بغیر یہ نرسیس کوویڈ کے مریضوں پر توجہ دے رہی ہیں اور ان کا خیال رکھ رہی ہیں اور ساتھ ہی پوری طرح احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہیں تاکہ ان کے رحم میں پرورش پانے والے بچہ کو کوئی گزند نہ پہنچے ۔ گاندھی ہاسپٹل میں کم از کم 10 حاملہ نرسیس ہیں جو کوویڈ مریضوں کی خدمت انجام دے رہی ہیں ۔ 16 تا 32 ہفتوں کے حمل کی یہ نرسیس کورونا وائرس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں ۔ ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راجہ راؤ اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ منگماں کی جانب سے نرسنگ سسٹرس اسوینی ، رانی ، انیتا ، گنگا ، کویتا ، سروجا اور راولی کی خدمات کی ستائش کی جارہی ہے ۔ گائناکالوجی ڈپارٹمنٹ میں متعین اسوینی نے کہا کہ وہ اس کے شوہر نندکشور اور ارکان خاندان کی مدد سے اپنی ڈیوٹی انجام دے پارہی ہے ۔ حالانکہ وہ رحم میں پرورش پانے والے بچہ کی صحت کو لاحق جوکھم کے بارے میں فکر مند ہے پھر بھی اس نرس نے کہا کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کررہی ہیں ۔ یہ نرس اس وقت زبردست دباؤ کا شکار ہوگئی تھی جب اس کا کورونا وائرس ٹسٹ مثبت آیا تھا ۔ تاہم اس کے علاج کے بعد اس کا ٹسٹ منفی آیا اور اس نے راحت کی سانس لی ۔ یہ جاننے کے بعد کہ بچہ صحت مند پرورش پارہا ہے اس نے پھر کام کرنا شروع کردیا ۔ ایک اور سسٹر رانی 28 ہفتوں کے حمل کے ساتھ اس دواخانہ میں کنٹراکٹ اساس پر کام کررہی ہے ۔ ابتداء میں اس کے خاندان نے گاندھی ہاسپٹل میں اس کے کام کرنے پر رضا مندی نہیں دی تھی کیوں کہ وہ پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی ہے ۔ تاہم اسے بڑی مشکل سے اس کے خاندان کو سمجھانا پڑا اور اس کے لیے انہیں آمادہ کرنا پڑا تھا ۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کے ہونے والے بچہ کی صحت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے اس سلسلہ میں کافی احتیاطی تدابیر اختیار کئے ہیں ۔ اس نے کہا کہ وہ 36 ویں ہفتہ تک کام کے لیے رپورٹ کریں گی ۔ اس نے کہا کہ اس کے لیے اس کے خاندان کا سپورٹ ناقابل فراموش ہے ۔ سسٹر انیتا نے کہا کہ کوویڈ وارڈ میں زیر علاج کئی حاملہ خواتین ہیں ۔ ایک متوقع ماں کی حیثیت سے جب وہ مریضوں کی خدمت کے لیے اس وارڈ میں جاتی ہیں تو مریضوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس نے کہا کہ علاج کے بعد جب وہ مریض ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوتے ہیں تو اسے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ اس نرس نے کہا کہ پی پی ای کٹ پہن کر ڈیوٹی انجام دینے کے لیے بہت صبر اور ذہنی جرات کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔