نئی دہلی: یہ ناری شکتی کرن یا خواتین اختیارکاری کا عہد ہے ۔ دراصل یہ وقت وہ ہے جب ہمیں ہمارے معاشرے میں خواتین کی قوت کو تسلیم کرنا چاہئے تاہم یہ کھیل کود، سیاست، سنیما، مسلح دستوں، کارپوریٹ کاروبار یا دیگر شعبوں میں ہی صرف خواتین سے متعلق بات نہیں ہے ۔ یہ دیہی بھارت کی عام خواتین کی بات ہے جو مردوں کو حاصل مساوی مواقع اور مراعات سے محروم ہونے کے باوجود ہماری دیہی برادریوں میں تبدیلی لانے کا باعث ثابت ہوئی ہیں اور انہوں نے تغیر کو ممکن کرکے دکھایا ہے اور یہ چیزیں سووَچھ بھارت مشن، گرامین، یا ایس بی ایم-جی جیسی پہل قدمیوں کی بدولت ممکن ہو سکی ہیں۔ان خیالات کا اظہار وزارت جل شکتی ، حکومت ہند کے تحت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کی سکریٹری محترمہ ونی مہاجن نے کیا-انھوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کے ایک حصے کے طور پر مجھے اس تغیر کو ملاحظہ کرنے کا موقع حاصل ہوا تھا۔ ایس بی ایم-جی فی الحال دوسرے مرحلے میں ہے ۔ پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز 2 اکتوبر 2014 کو ہمارے وزیر اعظم کے ذریعہ کیا گیا تھا جس کے ذریعہ اہم مقاصد کے ایک حصے کے طور پر بھارت کو کھلے میں رفع حاجت سے مبرا ملک بنایا گیا، ایس بی ایم-جی مرحلہ 2 کا مقصد ٹھوس فضلہ اور رقیق فضلہ انتظام سمیت او ڈی ایف یعنی کھلے میں رفع حاجت کی کامیابی کو قائم و دائم رکھنا ہے ۔ اس میں گوبردھن سمیت حیاتیاتی لحاظ سے مٹی میں مل جانے والے ٹھوس فضلے کا انتظام بھی شامل ہے ، جو اشیاء مٹی میں فطری انداز میں سڑ -گل کر نہیں مل پاتیں ان کو ٹھکانے لگانے کے لیے بہتر طور طریقے اپنانا بھی اس میں شامل ہیں، مستعمل پانی جس میں مختلف کیمیاوی اشیاء کی آمیزش ہوتی ہے ، اس کا انتظام اور انسانی فضلے کی شکل میں خارج ہونے والی گاد کا انتظام کرکے صفائی ستھرائی کا بہتر انتظام ہو رہا ہے ۔