نئی دہلی ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) سپریم کورٹ نے ایک اہم مقدمے میں ایک خاتون وکیل کے طرزِ عمل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی وکیل کا اپنے ہی مؤکل کے ساتھ ذاتی تعلقات قائم کرنا پیشہ ورانہ وقار کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس کیس میں ملزم کی پیشگی ضمانت منظور کر لی۔جسٹس بی وی ناگارتھنا کی سربراہی والی بنچ نے سماعت کے دوران خاتون وکیل سے سوال کیا کہ وہ اس شخص کے ساتھ تعلقات میں کیسے آئیں جس کی طلاق کا مقدمہ وہ خود لڑ رہی تھیں۔ عدالت نے کہا کہ اس طرح کے رویے سے وکالت کے پیشے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ دونوں کے درمیان تعلقات باہمی رضامندی سے تھے اور کسی بھی فریق نے شادی کا وعدہ نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود فوجداری شکایت درج کرنا عدالتی عمل کا غلط استعمال ہے۔ بنچ نے اس شکایت کو بے بنیاد قرار دیا۔ملزم اس وقت لندن میں مقیم ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اگر وہ بھارت واپس آتا ہے تو اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ خاتون وکیل کو یہ علم ہونا چاہیے تھا کہ طلق مکمل ہوئے بغیر کسی شخص کی دوسری شادی قانونی طور پر ممکن نہیں۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خاتون وکیل اس سے قبل بھی چار مختلف افراد کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات درج کرا چکی ہیں۔ اس پر بمبئی ہائی کورٹ نے بھی ان کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے تحقیقات کی ہدایت دی تھی۔سپریم کورٹ نے آخر میں وکلاء کو متنبہ کیا کہ پیشہ ورانہ ذمہ داری، وقار اور اخلاقی حدود کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے، کیونکہ ایسے معاملات نہ صرف فرد بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوال کھڑے کر دیتے ہیں۔
آوارہ کتوں کے کیس کی سماعت 13جنوری تک ملتوی
نئی دہلی، 9جنوری (یواین آئی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو آوارہ کتوں کے انتظام کیس میں عوامی تحفظ کے خدشات اور جانوروں کی بہبود اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے انسانی اقدامات پر غور کیا اور سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔ جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں، این جی اوز، آوارہ کتوں کے حملوں کا شکار ہونے والے افراد اور دیگر فریقین کی طرف سے مسلسل دوسرے دن تفصیلی دلائل سنے ۔ شہر آوارہ کتوں کے گھیرے میں، بچے چکائے قیمت کے عنوان سے ایک از خود نوٹس کیس میں سماعت کی گئی۔
سماعت کے دوران مختلف فریقین نے رہائشی کالونیوں اور ادارہ جاتی احاطے میں آوارہ کتوں کے انتظام سے متعلق عدالت کی سابقہ ہدایات میں تبدیلی کی درخواست کی۔ اینیمل ویلفیئر گروپس اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) کے قوانین کو سختی سے نافذ کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ انہوں نے آوارہ کتوں کی نس بندی، ویکسینیشن اور ان کی رہائش گاہوں میں دوبارہ چھوڑنے کی وکالت کی۔ انہوں نے کتوں کے کاٹنے کو کم کرنے کیلئے اپنی آبادی کو کنٹرول کرنے کے سائنسی اور انسانی طریقے بھی تجویز کیے ۔ دریں اثنا، متاثرہ گروپوں نے رہائشی سوسائٹیوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بچوں اور بوڑھوں کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے ۔
