خاتون ٹیچر کی تصویر انسٹا گرام پر وائرل کرنے پر ٹیچر کی برہمی

   

طالبات کی پٹائی کا ویڈیو بھی وائرل، مقدمہ درج، پولیس تحقیقات کا آغاز
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں انسٹا گرام پر خاتون ٹیچر کی تصویر کا استعمال تنازعہ کا سبب بن گیا۔ ضلع کاماریڈی کے مدنور منڈل میں یہ واقعہ پیش آیا۔اور اب ٹیچر کی جانب سے لڑکیوں کی پٹائی کا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکول ٹیچر مہیشوری کی تصویر ایک طالبہ نے انسٹا گرام پر پوسٹ کردی اور تصویرکے نیچے ’’ بورینگ ‘‘ کا لفظ لکھ دیا۔ جب ٹیچر مہیشوری کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے طالبات سے وضاحت طلب کی ۔ اس دوران قصور وار طالبہ نے مہیشوری سے معافی مانگی باوجود اس کے اس خاتون ٹیچر نے لڑکیوں کو قطار میں ٹھہرا کر چھڑی سے پیٹنا شروع کردیا اور طالبات کو بڑی بے رحمی سے پیٹا ۔ اس واقعہ کا بھی ایک طالبہ نے ویڈیو تیار کرلیا اور اس کو وائرل کردیا۔ طالبات کے ساتھ مار پیٹ کا ویڈیو ردیکھتے ہوئے ہر گوشہ سے اس کی مذمت کی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق لڑکی کے والدین کی جانب سے بھی ٹیچر سے معافی مانگی گئی تاہم مہیشوری کے رویہ پر اب تنقیدیں کی جارہی ہیں۔ معاملہ پولیس سے رجوع ہونے پر پولیس نے ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔جس کے بعد اسکول کی دیگر طالبات نے بھی مہیشوری کے رویہ کی کھل کر مخالفت کی اور بتایا کہ کچھ عرصہ سے یہ ٹیچر بدسلوکی سے پیش آرہی تھی اور طالبات کے ساتھ اس کا رویہ بڑا ظالمانہ ہے، طالبات کے ساتھ شرمناک الفاظ کا بھی مہیشوری استعمال کرتی تھی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ٹیچر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ع