خاتون پولیس کانسٹبلس کی توہین

   

حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) سکریٹریٹ میں خدمات انجام دینے والی خاتون کانسٹبلس کو یونیفارم سلانے کے لئے مرد ٹیلرس کی خدمات سے استفادہ کیا گیا جو متنازعہ بن گیا۔ خواتین کی توہین کرنے کی سوشل میڈیا میں مہم شروع ہوگئی۔ مرد ٹیلرس کی جانب سے خاتون پولیس کانسٹبل کے یونیفارم کا سائز لینے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا میں وائرل ہوگئیں جس کے بعد محکمہ پولیس سخت تنقیدوں کا شکار ہوگیا۔ یہ واقعہ آندھرا پردیش کا ہے۔ ضلع نیلور کی 870 خاتون پولیس کانسٹبلس سکریٹریٹ میں خدمات انجام دیتی ہیں جنہیں حکومت کی جانب سے ایک خاتون کانسٹبل کو تین جوڑے یونیفارم سلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیلور پولیس کی جانب سے ایک خانگی ادارہ کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس ادارے کی جانب سے گزشتہ دو دن سے نیلور کے امیش چندرا کانفرنس ہال میں خاتون کانسٹبلس کا (ناپ) سائز لیا جارہا تھا۔ مرد ٹیلرس کی جانب سے خواتین کا سائز لینے پر ساری ریاست میں ہنگامہ پیدا ہوگیا۔ سیاسی قائدین خواتین تنظیموں کی جانب سے حکومت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایس پی نیلور وجیہ راؤ نے فوری اس کا معائنہ کیا اور ذمہ دار ہیڈکانسٹبل کے خلاف تادیبی کارروائی کی اور خاتون ٹیلرس کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ ن