چینائی۔ تمل ناڈو پولیس نے تمل ناڈو کے ویلور فورٹ کمپلیکس میں ایک خاتون کو زبردستی حجاب اتارنے کے الزام میں ایک نابالغ سمیت سات افراد کو گرفتار کیا۔ایس راجیش کنن، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ویلور نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ساتوں افراد کو جان بوجھ کر توہین اور بے حیائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد نے انفرادی آزادی کے خلاف جرم کیا۔ گرفتار افراد کے نام کے سنتوش (23)، عمران پاشا (24)، محمد فیصل (21)، ابراہیم باشا (24)، محمد فیصل (23) اور سی پرسانتھ (23) ہیں۔گرفتار نوجوان کو چائلڈ کیئر ہوم بھیجا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے زیادہ تر مقامی آٹو والے ہیں اور رکشہ ڈرائیورس ہیں ۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 27 مارچ کو دوپہر کے وقت اس وقت پیش آیا جب حجاب میں ملبوس خاتون ایک دوست کے ہمراہ قلعہ پہنچی۔ گرفتار افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور اسے حجاب اتارنے کو کہا۔ ان میں سے ایک نے اس واقعہ کو فون پر شوٹ کیا اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا جو وائرل ہوگیا۔ویلور کی نارتھ پولس نے چہارشنبہ کو ولیج ایڈمنسٹریٹو آفیسر (وی اے او) کی طرف سے دی گئی شکایت پر مقدمہ درج کیا ہے اور کارروائی شروع کی ۔ پولیس نے پانچ خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر جمعرات کو ملزمان کو پکڑ لیا۔ ان ساتوں کو عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے، شخصی آزادی کو خطرے میں ڈالنے، دو طبقوں کے لوگوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے اور خواتین کی عزت کے خلاف کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ پولیس نے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ویڈیو کلپنگ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں۔ اس میں ملوث افراد پر تامل ناڈو پروہیبیشن آف ہراسمنٹ آف وومن ایکٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ویلور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اس طرح کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کہ کسی بھی خاتون کو ہراساں کیا جائے ۔علاوہ ازیں خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بی ۔