حیدرآباد۔/16 نومبر، ( سیاست نیوز) خاتون کی عصمت ریزی کے بعد ویڈیوز کو وائرل کرنے کی دھمکی دینے والے کانسٹبل کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ تاخیر سے منظر عام پر آئے اس واقعہ پر پولیس میر پیٹ نے کارروائی انجام دی۔ آئے دن محکمہ پولیس میں پیش آرہے اس طرح کے واقعات سے محکمہ کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور محکمہ کو بدنام کرنے والے ملازمین اور عہدیداروں سے اعلیٰ عہدیدار پریشان ہیں۔ میر پیٹ پولیس نے ایک شادی شدہ خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے 30 سالہ وینکٹیشور راؤ کو گرفتار کرلیا جو سعید آباد علاقہ کا ساکن بتایا گیا ہے اور اسپیشل برانچ سے وابستہ کانسٹبل ہے۔ وینکٹیشور راؤ کی بیوی چند سال قبل فوت ہوگئی تھی اور وہ ایک خاتون پر اپنی بری نظر رکھتا تھا۔ سال 2021 میں خاتون کی شکایت پر سعیدآباد پولیس نے اس کے خلاف کارروائی تھی اور وہ معطل کردیا گیا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ خاتون کو پریشان کرنا شروع کردیا۔ جیل جانے سے قبل خاتون کی تنہائی کا فائدہ اٹھاکر وینکٹیشورراؤ اس کے مکان میں داخل ہوا اور اس نے دست درازی کی کوشش کی تھی۔ جیل سے رہائی کے بعد مقدمہ واپس لینے کیلئے خاتون کو پریشان کرنے لگا اور خاتون سعید آباد سے جلیل گوڑہ منتقل ہوگئی۔ اس کانسٹبل پر الزام ہے کہ اس نے مسلسل تین دن ماہ اکٹوبر میں خاتون سے زبردستی کی اور اس کی عصمت ریزی کی۔ عصمت ریزی کی ویڈیو تیار کرتے ہوئے خاتون کو پریشان کرنے لگاجب دل چاہے خاتون کا استعمال کرنے کے علاوہ ویڈیو کی آڑ میں مقدمہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈال کر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ جاریہ ماہ 11 تاریخ کو وہ خاتون کے مکان پہنچا اور جنسی وابستگی کی خواہش کی جس کے بعد خاتون نے میر پیٹ پولیس سے شکایت کردی اور پولیس نے گذشتہ روز وینکٹیشور راؤ کو گرفتار کرتے ہوئے جیل منتقل کردیا۔ع