خالصتانی تنازعہ پر بی جے پی لیڈروں کی ہر طرف سے مذمت

   

کولکتہ: بنگال کے سندیش کھالی میں بی جے پی لیڈروں کے دورے کے دوران سکھ آئی پی ایس آفیسر کو ‘‘خالصتانی ’’ کہے جانے کے بعد ایک طرف جہاں شمالی کلکتہ کے مرلی دھرسین میں واقعے بی جے پی کے ریاستی دفتر کے بعد سکھ برادری کا احتجاج جارہی ہے ۔یہ لوگ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو یشپریت سنگھ سے معافی مانگنی چاہیے ۔بی جے پی پر سکھ مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے منی لال سکھ سنگم گوردوارہ سے مرلی دھر سین لین تک ایک جلوس بھی نکالا گیا۔بی جے پی کے آل انڈیا ترجمان امیت مالویہ نے ایکس ہینڈل پر دعویٰ کیا کہ مرلی دھر سین لین کے باہر احتجاج کرنے والی سکھ برادری کی قیادت یووا ترنمول کانگریس جنوبی کلکتہ کے نائب صدر کر رہے ہیں۔ امیت نے الزام لگایا کہ ترنمول نے سندیش کھالی کے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ تنازعہ کھڑا کیا ہے ۔سکھ برادری کی جانب سے نہ صرف کلکتہ شہر بلکہ ریاست کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے ۔ سکھ کمیونٹی کی مرکزی کمیٹی کی قیادت میں مغربی بردوان کی برن پور گوردوارہ کمیٹی کی جانب سے چہارشنبہ کی دوپہر آسنسول۔ہیرا پور پولیس اسٹیشن میں ایک مظاہرہ کیا گیا۔قومی سطح پر عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے بھی بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے ۔