اونٹاریو : وزیراعظم ہند نریندر مودی کی کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم رکوانے کی درخواست کو کینیڈی وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مسترد کردیا۔ میڈیا کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ان کی خالصتان تحریک اور غیر ملکی مداخلت جیسے مسائل پر ہندوستانی ہم منصب نریندر مودی سے متعدد بار بات ہوئی ہے۔وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے مزید کہا کہ کینیڈا ہمیشہ شہریوں کے آزادیٔ اظہارِ رائے اور پْرامن احتجاج کے حق کو مقدم رکھتا ہے اور ہماری حکومت تشدد اور نفرت کے بجائے ضمیر کی آواز کے ساتھ کھڑی ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم نے مزید کہا کہ قانون کا احترام اور پاسداری اولین ذمہ داری ہے اس کی خلاف ورزی کرنے والے کچھ لوگ پوری قوم کی نمائندگی نہیں کرتے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے دہلی میں ہوئے جی-20 اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔خیال رہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ہندوستان سے علیحدگی اور سکھوں کے لیے الگ وطن خالصتان کے قیام کیلئے کینیڈا کے شہر میں ریفرنڈم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ ہندوستان اس سے قبل بھی کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کو رکوانے کی ناکام کوششیں کرتا آیا ہے ۔کینیڈا میں آج خالصتان ریفرنڈم اس گوردوارے میں ہورہا ہے جہاں علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ کو قتل کیا گیا تھا۔آج ریفرنڈم میں پہلا ووٹ ہردیپ سنگھ کے والد اور والدہ نے ڈالا۔سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں نے ہردیپ سنگھ کے قتل کا ذمہ دار ہندوستانی ایجنسیوں کو قرار دیا تھا اور کینیڈا حکومت اس قتل کی تحقیقات کر رہی ہے جس کے لیے ہندوستان نے ہر دباؤ کو مسترد کردیا۔یاد رہے کہ کینیڈا دنیا بھر میں ہندوستان کے بعد سکھوں کی آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے جہاں تقریباً ساڑھے سات لاکھ سے زائد سکھ آباد ہیں۔