خالصتان ریفرنڈم: کینیڈا میں سکھوں کی ووٹنگ کا نیا ریکارڈ

,

   

1 لاکھ 30 ہزار سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا‘ وقت ختم ہونے پر کئی افراد کو مایوسی

وینکور( کینیڈا):کینیڈا کے شہر وینکوور میں سکھ فار جسٹس کے زیر اہتمام منعقدہ خالصتان ریفرنڈم میں تقریبا 1 لاکھ 30 ہزار سکھوں نے ووٹ ڈال کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ہندوستان کے خلاف ریفرنڈم میں حصہ لینے کیلئے وینکوور کی سڑکوں پر ہزاروں سکھ مرد و خواتین امنڈ آئے۔پنجاب ریفرنڈم کمیشن کے زیر نگرانی ریفرنڈم پر ووٹنگ صبح 9 بجے سے شروع ہوئی اور شام 5 بجے تک جاری رہی۔قطاروں میں موجود ہزاروں افراد وقت ختم ہونے کے باعث ووٹ ڈالنے سے محروم رہ گئے جس کے بعد سکھ فار جسٹس موومنٹ اور پنجاب ریفرنڈم کمیشن نے 29 اکتوبر کو دوسرے ریفرنڈم کا اعلان کردیا۔سکھوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سکھ فار جسٹس تنظیم کے بانی اور ہندوستان کو انتہائی مطلوب سکھ رہنما سردار گرپنت وان سنگھ پنوں نے کہا کہ ہندوستان سکھوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث ہے، سکھ ہندوستان کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نجھر سنگھ کے قتل میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں اور سفارت کار ملوث ہیں، ہمارے بھائی نجھر سنگھ کا قتل کر کے ہندوستان نے جنگ کا اعلان کیا ہے۔سردار گرپنت وان سنگھ پنوں نے سکھ آزادی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے دم لیں گے، کوئی سکھ ہندوستان کی حاکمیت اور ہندتوا کے نظریے کو تسلیم نہیں کرتا۔گرپنت وان سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں سکھ عوام نے ریفرنڈم میں شرکت کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک آزاد ملک خالصتان چاہتے ہیں، ہم قانونی طریقے سے ہندوستان کو شکست دیں گے۔