’خالصہ ایڈ‘ کارکن ہمارے لئے فرشتے بن کر آئے

,

   

دہلی متاثرین کا تاثر، تباہ ملگیات کی سکھوں کی جانب سے تزئین نو
گیارہ ملگیات کے کاروباری حضرات کو
ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی مدد

(ظہیرالدین علی خان کی رپورٹ)
نئی دہلی 19 مارچ ۔ دہلی فسادات کے دوران جہاں فرقہ پرست درندوں نے پولیس کی موجودگی میں درندگی کا مظاہرہ کیا، مسلمانوں کی دوکانات، ان کے تجارتی اداروں اور مکانات کو لوٹا وہیں سکھوں نے مسلمانوں کی بھرپور مدد کی۔ مثال کے طور پر شاہین باغ کی احتجاجی خواتین کی مدد کے لئے بھی سکھوں کے گروپ پہنچے تھے۔ وہاں اُن لوگوں نے لنگر کا اہتمام کیا۔ فسادات کے دوران بھی سکھ بھائیوں نے اپنے گھروں اور گردواروں کے دروازے پریشان حال لوگوں کے لئے کھول دیئے۔ اب جبکہ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی ٹیم دہلی میں موجود ہے اس نے دیکھا کہ خالصہ ایڈ نامی سکھوں کی ایک خیراتی تنظیم متاثرہ علاقوں میں مسلمانوں کی تباہ حال دکانات کی تعمیر اور تزئین نو کررہی ہے۔ خالصہ ایڈ کے کارکنوں نے بتایا کہ اُنھوں نے ایسے مسلمانوں کی سب سے پہلے مدد کی جن کی بنڈیاں جلادی گئی تھیں۔ ایسے 50 تا 60 مسلمانوں میں بنڈیوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ سرویس انجینئر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایک سکھ نوجوان نے بتایا کہ وہ خالصہ ایڈ کی نگرانی میں جذبہ انسانی کے تحت فلاحی خدمات انجام دے رہا ہے۔ ایم بی اے میں زیرتعلیم اور کالج میں زیرتعلیم سکھ طلباء نے بتایا کہ وہ پچھلے دو تین سال سے ایسی خدمات میں حصہ لیتے آئے ہیں۔ خالصہ انڈیا تباہ شدہ دوکانوں کی تعمیر اور تزئین نو کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں متاثرین نے بتایا کہ خالصہ ایڈ کے کارکن ان کے لئے فرشتے بن کر آئے۔ دوسری طرف اشوک نگر کی مسجد جس پر فسادات کے دوران فسادیوں نے زعفرانی پرچم لہرایا تھا اور اسے نقصان پہنچایا تھا، اسکی تعمیر نو دہلی وقف بورڈ کررہی ہے۔ اس مسجد کے تحت جو 11 ملگیات تھیں انھیں بھی جلادیا گیا تھا۔ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے ان ملگیات میں دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لئے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس محلہ میں 5 ہزار کی آبادی ہے جس میں مسلمانوں کے35 مکانات ہیں۔ جن لوگوں کے گھر جلائے گئے وہ بھی واپس ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے تحفظ کی خاطر وہ محلہ میں ہی قیام کریں گے۔ مزید 500 مسلمان بھی اس علاقہ میں منتقل ہورہے ہیں۔